اس وقت طالبان کے دو گروپوں سے بات ہو رہی ہے‘ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل عالمی منڈی کے مطابق کیا جاتا ہے : پرویز رشید

Sep 02, 2013| Courtesy by : nawaiwaqt.com.pk

Pervaiz-Rasheedاسلام آباد (اے پی پی+ثناءنیوز) حکومتی ترجمان اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات اور قومی ورثہ پرویز رشید نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل بین الاقوامی منڈی میں قیمتوں میں اتار چڑھاﺅ کے مطابق کیا جاتا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مہنگا پٹرول خرید کر اسے سستا فراہم کرنے کا کوئی فارمولا نہیں‘ اگر تنقید کرنیوالوں کے پاس کوئی فارمولا ہے تو بتائیں ہم اس پر عمل کریں گے۔ اگر ماضی کی حکومتیں معیشت پر توجہ دیتیں تو آج عوام کی قوت خرید بڑھ چکی ہوتی اور ملک کی اقتصادی حالت بھی بہتر ہو چکی ہوتی۔ حکومت ملک کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کو مندنظر رکھتے ہوئے اہم معاشی منصوبوں کا آغاز کر رہی ہے۔ انکی تکمیل سے ملک میں اقتصادی بہتری آئیگی اور عوام کی قوت خرید میں اضافہ ہوگا۔ حکومت عوام کو ہر ممکن سہولیات بہم پہنچانا چاہتی ہے۔ وہ آج بھی گھریلو صارفین کو بجلی اصل لاگت سے کم قیمت پر فراہم کر رہی ہے جس کےلئے حکومت کو 170 ارب روپے سالانہ ادا کرنے پڑتے ہیں۔ معیشت کا استحکام حکومت کی اوّلین ترجیح ہے اور اس کیلئے ہر ممکن کوشش کی جائیگی۔ دریں اثناءوائس آف امریکہ سے انٹرویو میں پرویز رشید نے کہا کہ طالبان سے بالواسطہ رابطے کا قیام مجوزہ اے پی سی کی تیاری کا ایک حصہ ہے۔ بات چیت ہونی چاہئے یا نہیں اس کا فیصلہ کیسے ہوگا جب تک ہم ان کا ذہن پڑھ نہیں لیتے۔شدت پسندوں کی سوچ، تحفظات اور حدود جاننے کے بعد ہی اس سے متعلق بہتر فیصلہ کیا جا سکے گا۔ محب وطن افراد حکومت اور شدت پسندوں کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں مدد کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے ثالثوں کی شناخت یا دیگر معلومات فراہم کرنے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا یہ محب وطن پاکستانی ہیں اور محب وطن پاکستانی صحافی، علما، تاجر یا سیاستدان بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ پاکستان کو پرامن ملک دیکھنا چاہتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت سندھ حکومت کے معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کریگی۔ انہوں نے یہ تاثر مسترد کردیا کہ نوازشریف انتظامیہ شدت پسندوں سے صرف مذاکرات ہی چاہتی ہے اور دہشت گردی کے خلاف لائحہ عمل تیار کرنے سے متعلق سیاسی قائدین کے اجلاس کے انعقاد میں تاخیر کی بھی یہی وجہ ہے۔ محب وطن افراد حکومت اور شدت پسندوں کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں مدد کررہے ہیں۔ پاکستان کو پرامن دیکھنا چاہتے ہیں، محب وطن افراد حکومت اور شدت پسندوں کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں مدد کر رہے ہیں۔ یہ محب وطن افراد کرتے کیا ہیں اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ پاکستان کو پرامن ملک دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان سے بالواسطہ رابطے کا قیام مجوزہ اعلی سطحی اجلاس کی تیاری کا حصہ ہے۔ سینیٹر پرویز رشید نے کہاکہ شدت پسندی سے نمٹنے سے متعلق حکومت کے اقدامات کے بارے میں پارلیمنٹ میں تمام جماعتوں کے رہنماﺅں کو بھی وقتا فوقتا مطلع کیا جاتا ہے۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہاکہ حکومت بات چیت پر آمادہ کسی بھی طالبان گروپ سے مذاکرات کیلئے تیار ہے۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم طالبان کے کس گروپ سے مذاکرات کریں گے کیونکہ آج ہم دو گروپوں سے بات کر رہے ہیں تاہم اگر کل کوئی اور گروپ بات چیت میں شامل ہونا چاہے تو ہم انہیں بھی خوش آمدید کہیں گے۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ حکومت کا اصل مقصد امن کا قیام ہے اور وہ اس کے حصول کیلئے ہر ممکن کوشش کریگی۔ ہم نے ملک کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کرنا ہے اور اس کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا حکومت طالبان سے مذاکرات سے قبل حزب اختلاف کو اعتماد میں لے گی تو انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے خصوصا پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقدہ ہر رسمی اور غیر رسمی ملاقات میں رائے لی جاتی ہے۔