اقوام متحدہ کے بعد اکتوبر میں اوبامہ سے ملاقات کے دوران بھی ڈروں حملوں کا مسلہ اٹھاو

Sep 28, 2013| Courtesy by : pn.com.pk

نیویارک (محسن ظہیر سے )وزیر اعظم پاکستان میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے بعد 23اکتوبر کو وائٹ ہاو¿س میں امریکی صدر اوبامہ سے ملاقات کے دوران بھی ڈرون حملوں کا مسلہ اٹھائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے جن کو قابو میں کریں گے ۔وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان، بھارت اور افغانستان سمیت کسی بھی ملک کوہمارے اور ہمیں ان کے اندروانی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئیے بلکہ خطے میں استحکام اور ترقی کے لئے ملکر آگے بڑھنا چاہئیے ۔ ان ملے جلے خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں روز ویلٹ ہوٹل میں پاکستانی امریکن کمیونٹی کے اعزاز میں دئیے گئے ایک استقبالیہ سے خطاب کے دوران کیا جس میں ان کے وفد کے ارکان وفاقی وزراءسینیٹر اسحاق ڈار، خواجہ آصف ، سرتاج عزیز ، طارق فاطمی کے علاوہ مسلم لیگ (ن) امریکہ کے صدر روحیل ڈار، کیپٹن (ر) خالد شاہین بٹ اور سعید شیخ سمیت کمیونٹی کی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات اور ارکان نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان کو بڑے مسائل کا سامنا ہے ، ملک میں ترقی کے لئے امن ہونا چاہئیے ۔ آل پارٹیز کانفرنس میں سیاسی قیادت نے ڈائیلاگ کو بطور پہلے آپشن کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ۔ آئرلیند سمیت دنیا میں بہت سے ممالک نے ڈائیلاگ کے ذریعے اپنے مسائل حل کئے ہیں ۔ انہوں نے دہشت گردی کے واقعات کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ اقوام متحدہ آرہے تھے تو پشاور میں مسیحی برادری کو نشانہ بنایا گیا ، مساجد میں دھماکے کئے جاتے ہیں اور اہل تشیع کو نشانہ بنایا گیا ۔ یہ سب افسوس ناک واقعات ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے جن کو قابو کریں گے ۔ پاکستان کے ہمسائیہ ممالک کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان صدر کرزئی کا دورہ اسلام آباد خوش آئند رہا اور آنیوالے دنوں میں دونوں ممالک آگے بڑھیں گے اور تعلقات کو فروغ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن ہوگا تو پاکستان میں بھی امن ہوگا، ہم ہندوستان سے بھی ڈائیلاگ کے ذریعے مسائل طے کرنا چاہتے ہیں ۔ہندوستان کو ہمارے اور ہمیں ان کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہئیے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو بے جا ہتھیاڑوں کی دوڑ میں مصروف ہونے کی بجائے ، اپنے وسائل کو اپنے ملک و قوم کی ترقی پر خرچ کرنا چاہئیے ۔ –

 

 

وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ وہ چودہ سال پہلے (1999) میں امریکہ آئے ۔ انہوں نے اس وقت پیدا ہونےو الی پاک بھارت تناو¿ کی صورتحال کا نام لئے بغیر کہا کہ وہ 1999میں جو کردار ادا کرنے کے لئے امریکہ آئے تھے ، وہ صحیح تھا اور انہیں اپنے اس فیصلے پر کوئی افسوس نہیں ہے ۔ نواز شریف نے مسکراتے ہوئے اپنی سابقہ حکومت کی معزولی کا معنی خیز انداز میں ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1999کا دورہ کے بعد وہ جب وطن واپس گئے تو اس کے بعد لوگ مجھے اور میں لوگوں کو ڈھونڈتا رہا ۔مجھے جیلوں میں ڈالا گیااور جہاز تک میں ہتھکڑیاں لگائی گئیں جس کی مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی ۔معلوم نہیں کہ مجھے کس جرم کی پاداش میں سزا دی گئی میاں نوا ز شریف نے کہا کہ سابقہ دور میں ہمیں فرینڈلی اپوزیشن اور نورا کشتی کے طعنے دئیے گئے ، بندر بانٹ کی باتیں کی گئیں ، سراسر غلط الزامات لگائے گئے ۔اپوزیشن کے دور میں ہمارے پاس بہت سے لوگ آکر کہتے تھے میاں صاحب لانگ مارچ کرو جی ، ہم کہتے تھے ، ٹھیک ہے کریں گے لیکن جن کو بات سمجھ آسکتی تھی، ان کو سمجھاتے تھے کہ ایک منتخب حکومت کو لانگ مارچ کے ذریعے گرا کر کس کو لائیں گے ؟ہم نے جمہوری انداز میں اصولوں کی بنیاد پر اپوزیشن کی ۔ ہمیں فخر ہونا چاہئیے کہ بیلٹ باکس کے ذریعے ایک حکومت گئی اور دوسری برسراقتدار آئی ۔ ایک صدر ریٹائر ہوا تو اس کی جگہ دوسرے منتخب صدر نے عہدہ سنبھالا ۔ اس سے پہلے تو راتوں رات منتخب ایوانوں پر چڑھائیاں کر دی جاتی تھیں ، وزیر اعظم کو پابند سلاسل کر دیا جاتا تھا اور دنیا ہمارا تماشہ دیکھتی تھی ۔پاکستان کی تاریخ میں چار بار ون مین شو (مارشل لائ) چلائے گئے لیکن ان ادوار میں ملک و قوم نے کوئی ترقی نہیںکی ۔ پاکستان میں جتنی بھی ترقی ہوئی ، جمہوری ادوار میں ہوئی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مشکلات کے باوجود پاکستان میں ترقی کا دور شروع ہوگا، معاشی انقلاب آئیگا۔ گذشتہ الیکشن میںخون خرابوں کے دوران بڑی مشکل سے انتخابی مہم چلائی گئیں ، میں اس دوران بھی کہتا تھا کہ پاکستان کے مسائل مشکل ہیں لیکن ان کو حل کرنا ہوگا۔ نوازشریف نے کہا کہ توانائی کا بحران آصف زرداری کی حکومت کو بھی ایک ڈکٹیٹر کی جانب سے ورثے میں ملا، میں نے صدر زرداری سے کہا تھا کہ آپ کی حکومت کو پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر سابقہ ڈکٹیٹر حکمرانوں سے توانائی کے بحران کا حساب لینا چاہئیے ۔ وزیر اعطم نے کہا کہ الیکشن سے پہلے میڈیا کا ایک سیکشن ہمیں گھاس ہی نہیں ڈالتا تھا، ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ کو اسی نوے سیٹوں سے زیادہ نہیں ملے گی لیکن اللہ تعالیٰ نے سب کے اندازے غلط ثابت کئے اور ہمیں حکومت کا موقع دیا ،ہمارے سامنے جتنے بڑے مسائل ہیں، ان کے حل کا اتنا ہی برا ہمار ا عزم ہے ۔ میاں نوازشریف نے کہا کہ ہماری حکومت کے گلگت سے لیکر گوادر تک ٹرین شروع کرنے اور ملک میں موٹر وے اور ہائی ویز کے منصوبوں کی وجہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی اور وسطی ایشیاءممالک میں انقلابی ترقی ہو گی جس سے دنیا کے سات میں سے چھ ارب انسانوں کو فائدہ پہنچے گا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چار سے پانچ ہزار میگا واٹ بجلی کا بحران ہے ، ہمیں صرف اس کمی کو نہیں بلکہ آئندہ بچیس سالوں کی ضرورت کے مطابق اقدام کرنے ہونگے ۔

– See more at: http://www.pn.com.pk/details_ur.php?uid=7617#sthash.1KP4p1H8.dpuf