ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا وقت نہیں سب ملکر چلیں گے تو ملک آگے بڑھے گا : نوازشریف

Aug 02, 2013| Courtesy by : nawaiwaqt.com.pk

news-1375397870-5845کراچی + گڈانی (آئی ا ین پی + این این آئی) وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جہاں معاملات صحیح ہوں، ملک میں جیلوں تک پر حملے ہوتے ہیں ایسے کام ملی بھگت کے بغیر نہیں ہوتے، ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا وقت نہیں، ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا ہوگا، ملک میں جمہوری طریقے سے الیکشن اور بیلٹ کے ذریعے تبدیلی آئی ہے، اقتدار کی منتقلی کے لئے کوئی مار دھاڑ نہیں ہوئی اور نہ جلسے جلوس اور احتجاج تک نوبت آئی۔ ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی سمیت سب کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ سب کو مل کر ملک کے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے، صدر کا انتخاب مشاورت سے ہوا ، سب خوش ہیں کوئی ناراض نہیں، ملک میں توانائی کے بحران کا ہر صورت حل چاہتے ہیں۔ وہ جمعرات کو مزار قائد پر حاضری دینے کے بعد میڈیا سے بات چیت اور بعدازاں گڈانی میں کوئلے کی مدد سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کا افتتاح کرنے کے موقع پر خطاب کررہے تھے۔ وفاقی وزرا اسحاق ڈار، شاہد خاقان عباسی، وزیر مملکت عابد شیر علی، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان، وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ، مسلم لیگ (ن) سندھ کے جنرل سیکرٹری سلیم ضیائ، رکن سندھ اسمبلی عرفان اللہ مروت، صوبائی سیکرٹری اطلاعات علی اکبر گجر، سید نہال ہاشمی، حاجی چنگزیب، آصف خان، محمد سعید، ارشد جدون و دیگر بھی موجود تھے۔ نواز شریف نے کہا کہ ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ضروری ہے، اگر ملک میں حالات اچھے ہونگے تو اس سے نہ صرف سرمایہ کاری ہوگی بلکہ بے روزگاری اور غربت کا بھی خاتمہ ہو گا اور قوم کے معیار زندگی میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں عام انتخابات کے بعد صدارتی انتخاب بھی جمہوری طریقے سے ہوا اور منتخب صدر موجودہ صدر کی مدت پوری ہونے کے بعد اپنا عہدہ سنبھالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا مستقبل تابناک ہے، اگرچہ حالات کچھ بہتر نہیں ہیں، ہم حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج سیاسی جماعتوں کے درمیان اچھے تعلقات ہیں جس کی واضح مثال یہ ہے کہ میرے دائیں جانب ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے گورنر عشرت العباد کھڑے ہیں اور بائیں جانب پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو قوم نے مینڈیٹ دیا ہے ہم اس کا احترام کرتے ہیں، میرا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے لیکن جو دیگر جماعتیں ہیں ہم انہیں بھی ملک کی سیاست کا حصہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے بات چیت ہوئی ہے، اس بات چیت کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور ہم توقع کرتے ہیں کہ آنے والا وقت بہتر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی ملک اور عوام کے مفاد میں ہے اور اس کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔ ایک سوال پر نواز شریف نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائی اور انہوں نے ملک میں عام انتخابات کے بعد صدارتی انتخاب بھی کرائے، انہوں نے جب تک مناسب سمجھا ذمہ داریاں نبھائیں اور جب انہوں نے بہتر سمجھا اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، یہ ان کا ذاتی مسئلہ ہے۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ کراچی میں امن وامان کا قیام چاہتے ہیں اس سلسلے میں صوبائی حکومت اپنا کردار ادا کرے وفاق بھرپور مدد کرنے کو تیار ہے اور اس سلسلے میں پہلے کمیٹی بنائی جائے گی اور وہ صورتحال کا بغور جائزہ لے گی۔ امن و امان سے متعلق پالیسی کے لئے مشاورت جاری ہے تاہم اس میں کچھ وقت لگے گا۔ اس سلسلے میں انہوں نے چاروں وزرائے اعلیٰ سے تجاویز دینے کے لئے کمیٹیاں بنانے کی ہدایت کی ہے، کمیٹیوں کی تجاویز پر غور کےلئے وفاق اور صوبوں کا اجلاس ہوگا جس میں امن وامان سے متعلق پالیسی وضع کی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ جسٹس ریٹائرڈ فخر الدین جی ابراہیم نے عام انتخابات کا انعقاد کراکر اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دیئے ہیں، ممکن ہے چیف الیکشن کمشنر صاحب ان ذمہ داریوں کو اپنے مزاج کے مطابق ادا نہ کر پا رہے ہوں اس لئے انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے، ان کی خواہش تھی کہ جسٹس فخرالدین جی ابراہیم اس عہدے پر مزید اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہتے۔ جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ آپ نے ممنون حسین کو ملک کا صدر منتخب کرایا ہے اور اس انتخاب پر آپ کی پارٹی کے بہت سے لوگ ناراض ہیں، تو میاں نواز شریف نے کہا کہ کوئی بھی ناراض نہیں ہے اور سب خوش ہیں، مشاورت سے صدر کا انتخاب ہوا ہے۔ انہوں نے اپنے دور اسیری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حالات بدلتے رہتے ہیں، میں یہاں پہلے دو مرتبہ وزیر اعظم کی حیثیت سے مزار قائد پر حاضری دے چکا ہوں اور ایک وقت وہ بھی تھا جب میں نے اسی شہر میں اسیری کاٹی اور بکتر بند گاڑی میں بیٹھ کرعدالتوں میں پیش ہوتا تھا وہ بھی ایک جمہوری جدوجہد کا تسلسل تھا، ہم نے ہمیشہ جمہوری اداروں کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے لئے کردار ادا کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں جو توانائی کا بحران ہے اس کا ہم ہر صورت حل چاہتے ہیں اور اسی لیے اس شعبے میں ہنگامی بنیادوں پر کام کررہے ہیں۔ ملک سے اندھیروں کا خاتمہ چاہتے ہیں اگر انرجی ملک میں موجود ہوگی تو صنعتوں کا پہیہ بھی چلے گا اور روزگار میں بھی اضافہ ہو گا۔ بعدازاں گڈانی میں کوئلے کی مدد سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں بجلی کی کمی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہمارے پاس وقت نہیں، حکومت نے توانائی پالیسی کا اعلان کر کے ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو ایک بہتر موقع فراہم کیا ہے، اس منصوبے سے ملک کی معیشت کو سہارا ملے گا، نئے روزگار کے ذرائع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ طلب میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے جسے پر کرنے کے لئے ہمیں مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا ہو گی، یہ منصوبہ مکمل ہونے سے پاکستان کی ترقی کا نیا باب کھلے گا۔ اس کے علاوہ گوادر سے خنجراب تک اقتصادی راہداری بنائی جارہی ہے جس سے ملک میں بےروزگاری کا خاتمہ ہوگا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جہاں معاملات صحیح ہوں، ملک میں جیلوں تک پر حملے ہوتے ہیں ایسے کام ملی بھگت کے بغیر نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا وقت نہیں ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا ہو گا۔ وزیراعظم نے مزار قائدؒ پر مزید بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سب مل کر چلیں گے تو ملک آگے بڑھے گا۔ مجھے وہ دن یاد ہے جب میں بکتربند گاڑی میں کراچی آیا تھا۔ آج میں وزیراعظم کی حیثیت سے ملک کا دورہ کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سے مذاکرات چاہتے ہیں اور کشمیر سمیت تمام تنازعات کا چل چاہتے ہیں اسے بھی لچک دکھانا چاہئے۔ پیپلز پارٹی سمیت تمام جماعتوں کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں۔ سب اکٹھے رہیں گے تو جمہوریت کی گاڑی پٹڑی پر رہے گی۔ کراچی کے حالات سے غافل نہیں لیکن مربوط پالیسی بنانے میں وقت لگے گا۔ خواہش تھی فخرالدین کام جاری رکھتے۔ صدارتی الیکشن میں تعاون پر متحدہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ سندھ میں گورنر راج کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ کراچی میں جلد انڈر گرا¶نڈ ٹرین چلے گی۔ کراچی سے لاہور تک 6 رویہ موٹروے تعمیر کی جائے گی۔ وزیراعظم گڈانی پہنچے تو وزیر اعلیٰ بلوجستان نے ان کا استقبال کیا۔ وزیراعظم نے گڈانی میں پاور منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے کہا 5200 میگاواٹ کا یہ منصوبہ انرجی کوریڈور ہے اسے 10 ہزار میگاواٹ تک لے جائیں گے۔ آئندہ چند برسوں کے لئے ملکی ضروریات کے پیش نظر 50 ہزار میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنا ہو گی۔وزیراعظم نے کہا کہ بجلی بحران پر قابو پانے کیلئے تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس ضائع کرنے کیلئے ایک سیکنڈ بھی نہیں۔ ہمیں دو تین برس کیلئے اگلے 20 سے 25 برس کی منصوبہ بندی کرنا ہو گی اور 50 ہزار میگاواٹ کا ہدف رکھنا ہو گا۔