بائیو ماس کوئلے کے پاور پلانٹس لگا کر بجلی بحران کم کیا جا سکتا ہے: شہباز شریف

Jun 20, 2013

news-1371690088-7096

لاہور (خبر نگار) وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت توانائی کے روایتی اور متبادل ذرائع پر جنگی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔ بائیو ماس اور کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس لگا کر بجلی بحران کم کیا جاسکتا ہے۔ توانائی بحران حل کرنے کیلئے تمام ذرائع سے استفادہ کیا جائے گا۔ بائیو ماس اور کول پاور پلانٹس لگانے کے حوالے سے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ پنجاب حکومت صنعتکاروں کو برآمدات کے فروغ کے حوالے سے ہرممکن سہولت فراہم کرے گی اور گارمنٹس کے ایکسپورٹرز کے مسائل کے حل کیلئے وفاقی حکومت سے بات چیت کی جائے گی۔ وہ گارمنٹس فیکٹری نشاط ایپرل، نشاط بائیو ماس اور کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ اور دیگر فیکٹریوں کا دورہ کر رہے تھے۔ نشاط گروپ کے چیئرمین میاں محمد منشاءنے وزیراعلیٰ کو گارمنٹس فیکٹری اور ایکسپورٹ کے بارے میں بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ نے اڑھائی گھنٹے سے زائد وقت تک مختلف فیکٹریوں کا دورہ کیا۔ شہباز شریف نے نشاط گروپ کے صنعتی یونٹوں کے دورے کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ توانائی بحران نے زندگی کے ہر شعبہ کو متاثر کیا ہے۔ سابق دور حکومت میں بجلی کی پیداوار کیلئے سنجیدہ اقدامات نہیں کئے گئے ۔ نہ صرف طلب کے مطابق بجلی کی پیداوار بڑھانے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ گردشی قرضوں کا انبار بھی چھوڑا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو لوڈشیڈنگ کے باعث عام آدمی اور صنعتی شعبے کی مشکلات کا پوری طرح احساس ہے اور میرے اس دورے کا مقصد کوئلے اور بائیوماس سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کا جائزہ لینا ہے۔ موجودہ صورتحال میں صرف روایتی طریقوں سے توانائی بحران سے نہیں نپٹا جا سکتا بلکہ متبادل ذرائع پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ پاکستان میں کوئلے کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت ان ذخائر کو استعمال کرتے ہوئے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے شروع کرے گی۔ حکومت نجی شعبے کے تعاون سے مختصرالمدت، وسط مدتی اور طویل المدت منصوبے تیار کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ کو بریفنگ کے دوران بتایاگیاکہ مرغیوں کے ویسٹ سے بھی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہ سستا ایندھن ہے۔ وزیراعلیٰ کو مختلف ممالک میں لگائے گئے بائیو ماس اور کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے صنعتی شعبے کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے صنعتکار ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کسانوں کے وفد سے گفتگو میں وزیراعلی نے کہا کہ زراعت کو ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، پنجاب حکومت زراعت کو فروغ دینے کیلئے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ کاشتکاروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے۔ صوبائی وزراء اور متعلقہ حکام مل بیٹھ کر کسانوں کے بجلی کے بلوں، ٹیرف اور دیگر مسائل کو حل کرنے کا جائزہ لیں اور میں اس ضمن میں وفاقی حکومت سے بات کرکے کسانوں کے مسائل حل کراﺅں گا۔ وفد کی شکایت پر وزیراعلی نے کہا کہ جعلی زرعی ادویات اور جعلی کھاد کے مکروہ دھندے کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ صدر پاکستان کسان اتحاد خالد محمود کھوکھر نے وزیراعلی کی زیر قیادت پنجاب حکومت کی پالیسیوں پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سو فیصد یقین ہے کہ شہباز شریف چھوٹے کسانوں کے مسائل ضرور حل کریں گے۔ خسرہ کے متعلق اجلاس سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت قوم کے نونہالوں کو خسرہ سے بچانے اور متاثرہ بچوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے لئے ہرممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ محکمہ صحت کو اپنا قبلہ درست کرنا ہو گا، عوام کو وبائی امراض سے محفوظ بنانے کے لئے ہرحال میں اپنا موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ افسوس کا مقام ہے کہ قوم کے بچے مر رہے ہوں اور متعلقہ حکام آرام سے بیٹھے رہیں، کام نہ کرنے والے افسران کی کوئی ضرورت نہیں، مجھے صرف کام اور نتائج چاہئے، انہوں نے کہا کہ لوگوں کے جگر گوشے ان سے جدا ہوتے رہیں اور ہم سوچ میں پڑے رہیں، ایسا بالکل برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ علاوہ ازیں وزیراعلی نے راجن پور کے ڈسٹرکٹ زکوٰة آفس کے ملازم کی جانب سے تنخواہ نہ ملنے پر فائرنگ کرکے دو ملازمین کو قتل کرنے کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ کو واقعہ کی فوری انکوائری کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔شہباز شریف نے کم جہیز لانے پر بادامی باغ میں نوبیاہتا دلہن کو تیل چھڑک کر آگ لگانے کے واقعہ کی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔شہباز شریف نے کم عمر ترین مائیکرو سافٹ سائٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل کا اعزاز حاصل کرنے پر سات سالہ عزیر کو دلی مبارکباد دی ہے۔