بجلی بحران اور عوامی مشکلات کا سب کو مل کر خاتمہ کرنا ہوگا : نوازشریف

Jul 24, 2013| Courtesy by : nawaiwaqt.com.pk

news_detail_img-epaper_id-4607-epaper_page_id-57602-epaper_map_detail_id356015

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + بی بی سی + ایجنسیاں) وزیرِاعظم میاں نواز شریف کی زیرِ صدارت مشترکہ مفادات کی کونسل کے اجلاس میں پیش کردہ توانائی پالیسی کو مزید بہتر کرنے کے لیے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے مہلت مانگی ہے۔ تمام صوبوں پر مشتمل کمیٹی توانائی پالیسی پر نظر ثانی کرے گی اور توانائی پالیسی اور آئینی امور کا جائزہ لینے کے بعد ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرے گی۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزراءاعلیٰ اور کونسل کے دیگر ارکان شریک ہوئے۔ مسلم لیگ (ن) کا اقتدار میں آنے کے بعد مشترکہ مفادات کونسل یا سی سی آئی کا یہ پہلا اجلاس تھا۔ کمیٹی چیف سیکرٹری اور چاروں صوبوں کے نامزد کردہ ایک ایک نمائندے پر مشتمل ہے۔ اجلاس میں پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف، سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ، وزیراعلیٰ خیبر پی کے پرویز خٹک، وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراءریاض حسین پیرزادہ، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، پیر صدرالدین راشدی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ اور دوسرے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں قومی توانائی پالیسی کا مسودہ منظوری کیلئے پیش کیا گیا تاہم اس کی منظوری نہ دی جا سکی کیونکہ صوبوں کی طرف سے پالیسی کا گہرائی سے جائزہ لینے کیلئے مہلت طلب کی گئی جس پر وزیراعظم نے کمیٹی بنا دی جو 31 جولائی کو رپورٹ دے گی۔ صوبوں کا موقف ہے عجلت میں منظوری نہیں دی جانی چاہئے۔ اسلام آباد ( سپیشل رپورٹ نمائندہ خصوصی +ایجنسیاں) وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ تین سے چار سال میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا منصوبہ بنا لیا اس سال سسٹم میں 1400 میگاواٹ بجلی شامل کرلی جائے گی بجلی چوری ختم کرنے کیلئے جلد قانون سازی کریں گے جب کہنے کو کچھ ہوگا تو قوم سے خطاب کروں گا مسائل اتنے گھمبیر ہیں کہ سمجھتے سمجھتے یہ دن آگیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ جو بھی فیصلے کئے جائیں واپس نہیں ہونا چاہئیں توانائی پالیسی تین چار سال نہیں 50 سال کیلئے بنائیں گے ہمیں کرپٹ لوگوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا جبکہ بجلی چوری میں ملوث افراد کے خلاف کریک ڈاﺅن کرنا ہوگا گیس کی فراہمی کیلئے سخت محنت کر رہے ہیں جن منصوبوں پر کام کر رہے ہیں ان سے جلد گیس کی سپلائی بہتر ہوگی بدقسمتی سے گزشتہ حکومت نے اس مسئلے پر کوئی توجہ نہیں دی، ایران گیس پائپ لائن ایک آپشن ہے تمام ایشوز کو سمجھنا چاہتا ہوں جب کہنے کو کچھ ہوگا تو قوم سے خطاب کروں گا۔ نوازشریف نے کہا کہ چین تب ہی سرمایہ کاری کرے گا جب سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوگی انٹیلی جنس اداروں اور سکیورٹی اداروں کو ذمہ داری نبھانا ہوگی، تین سے 5 سال میں بجلی کی پیداوار میں خودکفیل ہو جائیںگے، بھاشا ڈیم کی تعمیر میں بھارت رکاوٹ ڈال رہا ہے تھرکول منصوبے کو پورا ہونے میں وقت لگے گا، کوئلہ درآمد کرکے سستی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے، فرنس آئل سے پیدا ہونے والی بجلی لاگت زیادہ لیتی ہے۔ پاکستان میں 240 ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے، سکیورٹی پالیسی سے متعلق اے پی سی عیدکے بعد ہوگی عمران خان کی بات علیحدگی میں بھی سننے کو تیار ہوں، ایک سوال پر کہا کہ صدارتی الیکشن 31,30 جولائی تک چاہتے ہیں۔ معیشت کی بہتری کیلئے سکیورٹی بہتر بنانا ہوگی۔ وہ سینئر صحافیوں اور مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ ثناءنیوز کے مطابق نواز شریف نے کہا ہے کہ انرجی پالیسی پر عملدرآمد میں صوبوںکا اہم کردار ہے۔ بدانتظامی، کرپشن، چوری، نااہلی اور سستی کی وجہ سے توانائی کے بحران نے شدت اختیار کی، وفاق اور صوبوں کے درمیان خوشگوار تعلقات کار کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے، صوبوں کے آئینی اختیار میں کسی بھی قسم کی مداخلت نہیں کی جائے گی، جمہوری نظام کے استحکام کے لیے تمام جماعتوں کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں، ساری جمہوری قوتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ عوامی مشکلات کے ازالے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ نئی حکومت کے آنے کے بعد مشترکہ مفادات کونسل کا یہ پہلا باضابطہ اجلاس تھا۔ توانائی کی قومی پالیسی پر صوبوں کو اعتماد میں لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق سندھ اور خیبر پی کے نے بجلی لوڈشیڈنگ میں اضافے کی شکایت کی ہے۔ صوبوں کو بجلی کی منصفانہ فراہمی کی یقینی دہانی کرائی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ کسی بھی معاملے میں کسی صوبے کی حق تلفی نہیں ہو گی۔ وفاق اور صوبوں میں بہتر روابط چاہتے ہیں، ہمارے فیصلے اور پالیسیاں اس کی عملی غماز ہونگی۔ صوبوں نے کہا کہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی سے قومی ہم آہنگی میں پیشرفت ہو گی۔ بجلی کے بحران پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کی قلت کی وجہ سے نا صرف ملکی ضروریات کے حوالے سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا بلکہ عوامی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا، صنعتیں متاثر ہوئیں، کاروبار کو نقصان ہوا، بجلی کے مسئلے کا واحد حل موثر جامع پالیسی اور اس کا نفاذ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وفاق اور صوبوں کی مدد چاہیے۔ طلب اور رسد میں فرق بد انتظامی اور چوری کی وجہ سے توانائی کے شعبے کو شدید نقصان پہنچا۔ اہم چیلنج نظام میں شفافیت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کی پیداوار اور تقسیم کے نظام میں بہتری اور تبدیلی لائی جائیگی، ایماندار اور با صلاحیت افسران و اہلکاروں کی اداروں میں حوصلہ افزائی کی جائیگی، نگرانی کا کڑا نظام ہوگا۔ انہو ںنے کہا کہ ملک میں فرنس آئل کی وجہ سے بجلی مہنگی ہوئی۔ بجلی کے نظام میں بد انتظامی اور چوری کی وجہ سے سالانہ 140ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے مسائل پر قابو پانے کیلئے نظام کو تبدیل کرنا ہوگا، بجلی کے ضیاع کو روکنا ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ توانائی کے قلیل المدتی منصوبوں کیلئے دریاﺅں کے بہاﺅ پر ہائیڈل منصوبے بنا رہے ہیں واپڈا کی انتظامیہ کو اپنے معاملات میں شفافیت لانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ واپڈا اور متعلقہ ادارے مجموعی طور پر اس بحران کے ذمہ دار ہیں، ان کی بد انتظامی اور سستی و نااہلی کی وجہ سے قوم کو یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے، بجلی کی ترسیل کے نظام میں بہتری لاکر 1400میگا واٹ بجلی بچائی جا سکتی ہے۔ وزیراعظم نے گڈانی میں توانائی کے مرکز کے قیام کا اعلان بھی کیا انہوں نے کہا کہ اس مرکز سے سرمایہ کاروں کو توانائی کی پیداوار کیلئے خدمات فراہم کی جائیں گی اور یہ ملک میں بجلی کی پیداوار کا حب بن سکتا ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق وزرائے اعلیٰ نے موجودہ حکومت کی توانائی پالیسی کا خیرمقدم کیا ہے اور مشترکہ مفادات کونسل میں تجزیے کی درخواست کی ہے تاکہ پالیسی میں مزید بہتری لائی جا سکے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا کہ بجلی بحران نے عوام کا سکھ چین چھین لیا، صنعتوں کو تباہ کردیا ، معیشت کا پہیہ رک گیا، ہزاروں بے روزگار ہوگئے۔ اربوں روپے بجلی چوری کرنے والے عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ پی آئی اے‘ ریلوے اور سٹیل مل عوام کے اربوں روپے ہڑپ کررہے ہیں، تنظیم نو اور اصلاحات کریں گے، کرپشن کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ اربوں روپے بجلی چوری کرنےوالے عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائےگا جو غریب صارفین پر بوجھ ہے۔ بجلی چوری سے نہ صرف دیگر ہزاروں صارفین روشنیوں سے محروم ہوتے ہیں بلکہ قومی معیشت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ وزیراعظم نے ایڈیٹرز اور سینئر صحافیوں سے کہاکہ وہ حکومت کی توانائی پالیسی میں اپنی تجاویز اور آراءدیں تاکہ اس بحران سے عوام کو نجات دلائی جاسکے۔ توانائی ایک قومی مسئلہ ہے اور ہم توانائی کی قلت جلد از جلد دور کرنا چاہتے ہیں اس مقصد کےلئے ہم توانائی پالیسی کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔آئی این پی کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت کا زیادہ تر وقت اور توانائیاں ملک کے انرجی ایشو کو حل کرنے میں صرف ہوئیں، گھریلو اور صنعتی صارفین دیگر شعبوں کو بجلی کی آسان فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا، انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں کی جانب سے ناقص پالیسیوں اور توانائی کے اہم شعبے پر توجہ نہ دیئے جانے سے بجلی کا شعبہ بحران کا شکار ہو ا، سستی بجلی کی پیداوار ہی ایک چیلنج نہیں بلکہ بجلی کی تقسیم و ترسیل بھی توجہ اور بھاری سرمایہ کاری کی متقاضی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بجلی کے سنگین بحران سے نمٹنے کے لیے سب کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی، بحران پر قابو پانے کیلئے مربوط پالیسی کوکامیاب بنانے کے لئے صوبوں کا کردار اہم ہے، تین سے چار برسوں میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا منصوبہ ہے ، نئی توانائی پالیسی کا اعلان صوبوں کی مشاورت سے کیا جائیگا، پاکستان 45 فیصد بجلی فرنس آئل سے بنا رہا ہے جو کہ انتہائی مہنگا طریقہ ہے، سستی بجلی بنانے کے منصوبوں کو شفاف انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ٹیرف کی ری سٹرکچرنگ نئی قومی توانائی پالیسی کا اہم حصہ ہے جس میں موجودہ سبسڈی کو مرحلہ وار کم کیا جائے گا، 200 یونٹ تک کے صارفین کو سبسڈی دی جائے گی۔ بجلی کے معاملے پر وفاق کی پالیسی پر تمام یونٹس کو مل کر مربوط طریقے سے آگے بڑھنا اور کامیاب بنانا ہوگا۔ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے گڈانی انرجی کوریڈور بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ نئی توانائی پالیسی کا اعلان صوبوں کی مشاورت سے کیا جائیگا۔ ثناءنیوز کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ بدانتظامی، کرپشن، چوری، نااہلی اور سستی کی وجہ سے توانائی کے بحران نے شدت اختیار کی، وفاق اور صوبوں کے درمیان خوشگوار تعلقات کار کیلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے۔ صوبوں کے آئینی اختیارات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائے گی۔ جمہوری استحکام کیلئے تمام جماعتوں کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں۔ ساری جمہوری قوتوں کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں، بجلی بحران اور عوامی مشکلات کے خاتمے کیلئے سب کو ملکر کام کرنا ہوگا۔ مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق سحری اور افطاری کے وقت ٹرپنگ کی وجہ سے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ بجلی زیادہ پیدا بھی کر لیں تو ٹرانسمیشن لائنز ٹرپ کر جاتی ہیں۔ بجلی ٹرانسمیشن لائنز کی مرمت کی بھی ضرورت ہے، بھاشا ڈیم پر بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ ہمیں بجلی چوری ختم کرنا پڑے گی، جلد قانون سازی کریں گے۔ سرکاری لوگ اور بجلی چور آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ صوبوں نے قومی توانائی پالیسی پر مشاورت کے لئے کچھ وقت مانگا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بجلی اور گیس چوروں کو سخت سزائیں دینے کیلئے قانون میں ترمیم کی جا رہی ہے اور اس حوالے سے آرڈیننس جلد نافذ ہوگا۔ وہ وزیراعظم سیکرٹریٹ میں اخبارات اور ٹی وی کے نمائندوں کے ایک بڑے گروپ سے بات چیت کر رہے تھے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ غلط پالیسیوں کی وجہ سے بجلی کا بحران پیدا ہوا ہم دریائے سندھ پر ڈیم بنائیں گے۔ دیامر بھاشا ‘داسو‘ بونجی ڈیم اور دوسرے ڈیم بنائیں گے ہمارے پاس تھرکول کے وسیع ذخائر ہیں۔ جس سے ہم سستی بجلی بنا سکتے ہیں۔ تھرکول کے ذخائر بھارت تک جاتے ہیں بھارت کوئلے کے ان ذخائر سے ہزاروں میگاواٹ بجلی بنا رہا ہے۔ ہمیں چاہئے تھا کہ ہم بھارت سے سیکھ لیتے کہ کوئلے سے کیسے بجلی بن سکتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ قومی اقتصادی کونسل اجلاس میں بھی بجلی چوروں کو پکڑنے پر مشورہ کیا ہے۔ اگر ہم نے معیشت کو بہتر بنانا ہے تو پھر بجلی چوری روکنا ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں نوازشریف نے کہا کہ سکیورٹی اور معیشت کا ایک دوسرے سے بہت گہرا تعلق ہے۔ حال ہی میں چین گیا تو وہاں کے سرمایہ کاروں سے بات ہوئی تو انہوں نے پاکستان میں سیکورٹی کی صورت حال کے باعث سرمایہ کاری کرنے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ چین کے سرمایہ کار ڈرے ہوئے ہیں۔اگر یہاں امن نہیں ہوگا تو کوئی باہر سے آکر کیسے سرمایہ کاری کرے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ چینی کمپنی جو نندی پور منصوبہ لگانا چاہتی تھی اس کا سامان ڈیڑھ سال تک کراچی پورٹ پر پڑا رہا لیکن وہ منصوبہ نہیں بن سکا۔ حکومت کو اس سامان پر ایک ارب 75کروڑ کا ڈیمریج ادا کرنا پڑا۔ چینی کمپنی کے ذمہ داروں نے آکر حکومت سے بات کی ہے کہ اس کا سامان کراچی میں ہے لیکن حکومت نے اس کی مدد نہیں کی جا رہی۔ 125میگاواٹ کا یہ منصوبہ اب تک مکمل ہونا چاہئے تھا وزیراعظم نے کہا کہ جب میں دو مرتبہ پہلے وزیراعظم تھا تو اس وقت پاکستان میں نہ بجلی کا مسئلہ تھا نہ دہشت گردی کا کوئی مسئلہ تھا حال ہی میں آزاد کشمیر میں نیلم جہلم منصوبہ دیکھنے کے لئے گیا۔ اس منصوبہ پر ابتدائی لاگت چند ارب روپے تھی جو اب بڑھ کر 275 ارب روپے ہوگئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے بددیانت افراد کی جگہ اچھے اور دیانت دار لوگ لانے کے لئے اخبارات میں اشتہارات دئیے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کمیشن بنانے کے لئے کہا ہے اب کمیشن بنا دیا گیا ہے جو اہل اور دیانت دار لوگوں کی تقرری کرے گا\ بجلی کے بحران کے لئے وزیر خزانہ اسحاق ڈارنے 480 ارب روپے کا گردشی قرضہ اتار دیا ہے۔ اس وقت واپڈا جو ٹرانسفارمر بنا رہا ہے وہ انتہائی گھٹیا معیار کے ہیں جس کے باعث یہ جلد خراب ہوجاتے ہیں اور بجلی کی ترسیل کے نظام میں بھی رکاوٹ ہیں۔ انہوں کہا کہ عید کے فوری بعد اے پی سی چاہتا ہوں، مسائل کا حل تلاش کر کے قوم سے خطاب کرنا چاہتا ہوں۔وزیراعظم نے کہا 240 ارب روپے سالانہ کی بجلی چوری ہورہی ہے اس میں سرکاری حکام بھی ملے ہوئے ہیں