دہشت گردی: قومی اتفاق رائے سے نمٹیں گے: حکومت‘ عسکری قیادت

Jun 20, 2013

news-1371689882-6917

اسلام آباد (نوائے وقت نیوز + نمائندہ خصوصی + آن لائن + آئی این پی) وفاقی حکومت اور عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خلاف پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے قومی اتفاق رائے کے ساتھ اس سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت مجموعی ملکی سلامتی کی صورتحال‘ بلوچستان کے حالیہ واقعات‘ ڈرون حملوں سمیت قومی سلامتی کے دیگر اہم معاملات پر غور کیلئے وزیراعظم ہاﺅس میں اہم اجلاس ہوا۔ کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں ساری صورتحال کا تفصیل سے جائزہ لے کر اہم فیصلے کئے گئے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف‘ وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز‘ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ چودھری نثار نے بلوچستان کے حالیہ دورہ کے بارے میں تفصیل سے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بلوچستان میں سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان رابطوں کے فقدان کے حوالے سے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اس کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام سول اور فوجی اداروں کے درمیان رابطوں اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو یقینی بنایا جائے۔ ذرائع کے مطابق آرمی چیف نے یقین دلایا کہ اس حوالے سے مکمل تحقیقات کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ نے قومی سکیورٹی پلان کی تیاری کیلئے آج ہونے والے اہم اجلاس کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔ اجلاس میں دہشت گردی اور قومی سلامتی کے تمام معاملات پر وزیراعظم کی طرف سے طلب کردہ کل جماعتی کانفرنس کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کل جماعتی کانفرنس میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی خصوصی دعوت پر شرکت کریں گے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں خطے کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ فوج کے سربراہ نے وزیراعظم اور اجلاس کے شرکاءکو سرحدوں کی صورتحال سمیت قومی سلامتی کے اہم امور پر بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں زیارت میں قائد اعظم کی ریذیڈنسی کی دہشت گرد حملے میں تباہی کی شدید مذمت کی گئی۔ وزیر داخلہ نے اپنے دورہ زیارت کی بھی رپورٹ پیش کی۔ اجلاس میں حکومت اور عسکری قیادت نے بات چیت پر یقین رکھتے ہوئے عسکریت پسندوں سے بات کرنے اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے پر اتفاق کیا۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے قومی سکیورٹی کی پالیسی پلان میں اس حو الے سے گائیڈ لائن دی جائے گی۔ اے پی اے کے مطابق حکومت نے امن و امان کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کا اجلاس جلد بلانے کا اشارہ دیا ہے۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے تمام ادارے مل کر کام کریں مشترکہ حکمت عملی مرتب کی جائے۔ اجلاس میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر کو روکنے اور امن سے متعلق اہم فیصلے ہوئے جبکہ وزیر داخلہ کی جانب سے تجویز دی گئی کہ انٹیلی جنس اداروں میں رابطوں کو مربوط بنایا جائے۔ میکانزم تیار کیا جائے۔ اجلاس میں شامل اعلی حکام نے اتفاق کیا کہ دہشت گردی ملک میں سرمایہ کاروں اور امن و امان میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس لعنت کو ہر قیمت پر ختم کیا جائے گا اس مقصد کیلئے تمام وسائل اور طریقے استعمال کئے جائیں گے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ دریں اثنا ترجمان وزیراعظم ہاﺅس کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کو ڈی جی سٹریٹجک پلانز ڈویژن خالد قدوائی نے بریفنگ دی ہے۔ وزیراعظم نے جوہری صلاحیت کی مینجمنٹ اور سکیورٹی ڈھانچے پر اظہار اعتماد کیا۔ وزیراعظم نے قومی سلامتی کیلئے سٹریٹجک پروگرام کی مرکزیت پر قائم رہنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام بیرونی جارحیت کیخلاف موثر ہتھیار ہے۔اے پی پی کے مطابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے پاکستان کی جوہری صلاحیت کے انتظامی اور سکیورٹی ڈھانچہ جات پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سٹریٹجک پروگرام کو مضبوط بنانے پر کئی برس لگے ہیں یہ بیرونی جارحیت کے خلاف بھرپور ڈیٹرنس کو یقینی بناتے ہوئے خطہ میں امن کیلئے باعث تقویت ہے۔ وزیراعظم جو نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) کے چیئرمین بھی ہیں نے قومی سلامتی کیلئے سٹریٹجک پروگرام کی بنیادی اہمیت کے حوالے سے حکومت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ خصوصی بریفنگ میں وزیرخزانہ اسحق ڈار، خصوصی مشیروں سرتاج عزیز اور طارق فاطمی، چیئرمین جائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل خالد شمیم وائیں نے شرکت کی۔ وزیراعظم میاں محمدنواز شریف نے نیوکلیائی صلاحیت کی مینجمنٹ اور سکیورٹی ڈھانچہ پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سٹریٹجک پروگرام برسوں کے بعد بلوغت کو پہنچا ہے اس نے بیرونی جارحیت کے خلاف مکمل تحفظ فراہم کیا اس سے خطے میں امن کو تقویت ملی ہے۔ وزیراعظم نے قومی سلامتی کے لئے سٹریٹجک پروگرام کی مرکزی حیثیت کے بارے میں حکومت کے ٹھوس عزم کا اعادہ کیا۔