دہشت گردی کیخلاف جنگ ہم پر مسلط کی گئی‘ سیاسی قیادت نے اجازت دی تو کوئٹہ کو اسلحہ سے پاک کر دینگے : نثار

Aug 12, 2013| Courtesy by : nawaiwaqt.com.pk

news_detail_img-epaper_id-4676-epaper_page_id-58596-epaper_map_detail_id362516

کوئٹہ (بیورو رپورٹ+نوائے وقت نیوز) وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ہم پر تیرہ سال قبل مسلط کی جانے والی جنگ ہماری نہیں، دوسروں کی جنگ ہم پر زبردستی مسلط کی گئی ہے، اس سے چھٹکارے کیلئے تمام سیاسی قوتوں کو ملکر لڑنا ہوگا۔ 13 سال کا گند چند روز میں صاف نہیں ہوسکتا، اس کیلئے کوئی ”آف“ یا”آن“ بٹن نہیں ہے، پاکستان کو اَن دیکھے دشمن کا سامنا ہے۔ مشرقی اور مغربی سرحدیں محفوظ ہیں، تشویش کی کوئی بات نہیں۔ ہماری حکومت کو کام کرنے دیا جائے، سکیورٹی پالیسی تیار کی جا رہی ہے، دہشت گردی پر بہت جلد قابو پا لیں گے، پاک فوج بلوچستان پولیس کو ہنگامی بنیاد پر تربیت دینے کو تیار ہے، سیاسی قیادت نے اجازت دی تو کوئٹہ کو اسلحہ سے پاک کیا جاسکتا ہے۔ افغانستان اور بھارت سمیت مجموعی ملکی سرحدی صورتحال اطمینان بخش ہے، کسی کو ملکی سلامتی پر تشویش میں مبتلا نہیں ہوناچاہئے تاہم اندرونی سکیورٹی میں بہت سے علاقوں میں بہتری کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے نئی سکیورٹی پالیسی لائی جارہی ہے، اس پالیسی کی تشکیل میں سکیورٹی اداروں کو آن بورڈ لے رہے ہیں۔ بلوچستان میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات سے پولیس اور سکیورٹی اداروں کا مورال کم نہیں ہوا بلکہ پولیس اور سکیورٹی اداروں نے دہشت گردی کیخلاف اگلی صفوں میں لڑنے کا پختہ عزم ظاہر کیا ہے۔ گزشتہ تیرہ سال سے دہشت گردی کی مسلط کردہ جنگ سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں ،اداروں اور افراد کو اپنی اپنی سوچ ،نظریئے اور مینڈیٹ سے نکل کر اپنا حصہ ڈالنا ہوگا، اس لئے انہیں متحد ہونا ہوگا۔ وہ کوئٹہ میں امن وامان کے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ان کے ساتھ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ،صوبائی وزراءنواب محمد خان شاہوانی ، عبدالرحیم زیارت وال ،رکن قومی اسمبلی سردار کمال خان بنگلزئی اور مسلم لیگ(ن) کے رکن صوبائی اسمبلی میر عاصم کرد گیلو بھی موجودتھے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف دوسروں کی جنگ میں پاکستان کو دھکیلا گیا جس کی وجہ سے ہماری اندرونی صورتحال خراب ہوئی آج ہمارے بازار ،گلیاں ،مساجد ،عبادت گاہیں غیر محفوظ ہیں تیرہ سالہ مسائل کا حل ایک دم ممکن نہیں حکومت سنجیدگی ا ور تمام محرکات کا تجزیہ و جائزہ لیکرجامع سکیورٹی پالیسی بنارہی ہے ہم ایسی سکیورٹی پالیسی بنائیں گے جس پرحقیقی معنوں میں عملدرآمد کراسکیں تاہم نئی سکیورٹی پالیسی کی تشکیل میںوقت درکار ہے کیونکہ اس کیلئے محض اعلان نہیں کرنا پڑتا بلکہ پورا ہوم ورک کیا جاتا ہے امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک کو بھی نائن الیون کے بعد سکیورٹی پالیسی میں ایک سال کا وقت لگا حکومت سنجیدگی سے جملہ مسائل کے حل کیلئے کام کر رہی ہے ہمیں اپنا کام کرنے دیا جائے۔گزشتہ تیرہ سال میں حکومت پر تنقید کرنے والوں نے یہ سوال کیوں نہ اٹھایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کس پالیسی کے تحت لڑی جارہی ہے۔ بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں کی روک تھام اور بحالی امن کیلئے پاک فوج کے سربراہ جنرل پرویز اشفاق کیانی نے بھر پور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے بلوچستان پولیس کو پنجاب پولیس کی طرز پرجدید خطوط پر تربیت کی فراہمی اورفوری طور پر پانچ ہزار سب مشین گن (ایس ایم جی)کی فراہمی کا اعلان کیا ہے۔ بلوچستان میں جہاںدہشت گردی کے واقعات نے جنم لیا وہاں سکیورٹی اورانٹیلی جنس اداروں نے نمایاں کامیابیاں بھی حاصل کیں بہادر خان وومن یونیورسٹی بم دھماکے کے تمام ذمہ داران پکڑے گئے ہیں دیگر واقعات پربھی حکومتی اداروں کی کارکردگی اچھی رہی ہمیں ان دیکھے دشمنوں کا سامنا ہے اور یہ ایک بڑی جنگ ہے وفاقی حکومت نے بلوچستان پولیس کی استعداد کار میں اضافے کیلئے معاونت کی پیشکش کی ہے بلوچستان کووفاق سے جس قدر بھی مالی و تیکنیکی معاونت ،معلوماتی خفیہ اطلاعات سمیت کسی بھی قسم کی معاونت درکار ہے وفاق ہر طرح کے تعاون کیلئے تیار ہے۔ امن و امان سے متعلق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کوئٹہ کو اسلحہ سے پاک کیا جائے گا۔ ایف سی یا پولیس کے کسی بھی آپریشن کے دوران شہریوں کی عزت نفس کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا سول حکومت آئی ایس آئی ، آئی بی ،وفاق اور تمام صوبائی اور مرکزی حکومت کے سکیورٹی اورانٹیلی جنس اداروں کے درمیان رابطہ کاری کے عمل کو مزید فعال بناکر شہریوں کے جانی و مالی تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔ دہشت گردی صرف حکومت یا سیاسی جماعتوں کا مسئلہ نہیں بلکہ بلوچستان اور پاکستان کی بقاءکا مسئلہ ہے جس کیلئے یکجا سوچ کے تحت سب کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوناہوگا چاروں صوبوں میں دہشت گردوں کے الگ الگ گروپس ہیں جن سے نبردآزما ہونے کیلئے نئی سکیورٹی پالیسی میں جامع اقدامات تجویز کئے جائیں گے اس مقصد کے لئے دنیا بھر کی سکیورٹی پالیسیوں کا جائزہ لے رہے ہیں ہم اپنی ضروریات کے مطابق مناسب اقدامات تجویز کریں گے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی سربراہی میں تمام ادارے اس بار پر متفق ہیں کہ پاکستان اور بلوچستان کی بقاءکی جنگ میں ہمیں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔ وفاقی حکومت سانحہ کوئٹہ میں شہید ہونے والے پولیس افسروں اور اہلکاروں کی جرات مندی ، بہادری پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتی ہے ڈی آئی جی فیاض سنبل ،ایس پی ،ڈی ایس پیز اور تمام پولیس اہلکاروں نے ملک و قوم کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے جرات و بہادری کی نئی تاریخ رقم کی حکومت پاکستان سانحہ کوئٹہ کے پولیس شہداءکے لواحقین کے دکھ و غم میں برابرکی شریک ہے حکومت ان سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے یقین دلاتی ہے کہ شہداءکا خون ناحق نہیں پوری قوم لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے اس موقع پر انہوں نے ڈی آئی جی فیاض سنبل سمیت تمام شہید پولیس افسروں کے لئے تمغہ شجاعت کا اعلان کیا۔ شہدا کے لواحقین کی ہرممکن مدد کی جائے گی اور صوبوں کی جانب سے شہداءکے لواحقین کیلئے جو ملای معاونت کی جائے گی وفاقی حکومت کی جانب سے اس میں حصہ ڈالیں گے۔ بلوچستان کے حالات کی بہتری کیلئے اجلاس میں جو سفارشات و تجاویز آئی ہیں اس کی رپورٹ وفاقی حکومت کو پیش کی جائے گی اسلام آباد میں وزیراعلیٰ بلوچستان اور انکی ٹیم کی مشاورت سے اس میں مزید بہتری لائیں گے۔ حکومت پاکستان اور وزیراعظم میاں محمدنواز شریف کی جانب سے وزیراعلیٰ بلوچستان کو پیغام دیدیا گیاہے کہ صوبے میں عوام کی بہتری اور امن و امان کی بحالی کیلئے جس قدر بھی مدد و امداد کی ضرورت ہوئی مقررہ بجٹ سے ہٹ کر اسکی فراہمی کو یقینی بنایاجائے گا۔گزشتہ تیرہ سال کے دوران ملک میں بڑے بڑے سانحات رونما ہوئے تاہم انکی ذمہ داری کے تعین کیلئے احتساب و جوابداری کی کوئی روایت قائم نہیں کی گئی۔ حکومت نے جملہ معاملات کی جوابداری و احتساب کیلئے موثر سسٹم بنایاہے اور اب ہر معاملے کی انکوائری کرکے ذمہ داروں کا تعین کریں گے کوئٹہ سمیت ملک بھر میں رونما ہونے والے سانحات و واقعات کی باقاعدہ انکوائریز ہورہی ہیں اور ملوث ذمہ داروں کے خلاف ضرورکارروائی ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف پولیس کے تمام تحفظات دور کرکے انہیں جدید و حسب ضرورت تمام وسائل فراہم کئے جاررہے ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے سی ایم ایچ کوئٹہ کا دورہ کیا اور پولیس لائن حملے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے قوم پولیس کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

 

 

کوئٹہ (اے پی پی) وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے انکے بڑے بھائی نصیر احمد بلوچ کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا اور فاتحہ خوانی کی۔ وفاقی وزیر داخلہ نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کوئٹہ میں امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی جس میں چیف سیکرٹری بلوچستان بابر یعقوب فتح محمد، صوبائی سیکرٹری داخلہ اکبر حسین درانی اور آئی جی پولیس بلوچستان مشتاق احمد سکھیرا سمیت سیکورٹی حکام نے پولیس لائن کوئٹہ میں بم دھماکے اور مچھ میں مسافروں کو قتل کرنے کے واقعات سمیت صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی اور واقعات کے بعد حکومت کی جانب سے اٹھائے جانیوالے اقدامات سے آگاہ کیا۔ وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار نے صوبے میں قیام امن سے متعلق تجویز کردہ اقدامات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہاکہ سکیورٹی اور انٹیلی جنس ادارے معلومات کے تبادلے کے فروغ اور بروقت کارروائی کیلئے مضبوط حکمت عملی کے تحت اقدامات کریں تاکہ تخریبی کارروائیوں کی بیخ کنی کرکے قیام امن کے متعین اہداف حاصل کئے جا سکیں۔ اجلاس میں پیش کردہ تجاویز و سفارشات پر مبنی جامع رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی جائے گی اور صوبے میں قیام امن کیلئے وفاقی و صوبائی حکومتیں سکیورٹی و انتیلی جنس ادارے واضح اہداف طے کرکے انکے حصول کیلئے یکسوئی سے کام کریں گے اور بلوچستان کو امن وخوشحالی کا گہوارہ بناکر عوام کے جانی و مالی تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔ وزیرداخلہ نے اس عزم کا پختہ اعادہ کیا کہ ریاستی رٹ کو ہرصورت میں برقراررکھا جائے گا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں پیش آنے والے واقعات پر وفاقی حکومت نے عملی طور پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی زیر صدارت اتوار کو منعقدہ امن و امان سے متعلق اجلاس میں اہم امور طے پائے ہیں اجلاس میں زیر غور انے والی تجاویز و سفارشات پر عملدرآمد کو یقینی بناکر بلوچستان میں امن و مان قائم کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔ چودھری نثار علی خان کی کوئٹہ آمد پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وفاقی حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ جن کی ہدایت پر وفاقی وزیر داخلہ نے بلوچستان میں رونما ہونے والے واقعات پر یکجہتی کا اظہار کیا اور معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان میں پائیدار قیام امن کیلئے مشترکہ اقدامات کرکے صوبے کے عوام کو مثالی پرامن ماحول فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں، ہماری نیتیں صاف اور ارادے پختہ ہیں عوام نے ہم سے جو توقعات وابستہ کی ہیں ان پر پورا اترنے کی ہرممکن سعی کریں گے۔ بلوچستان ہم سب کی سرزمین ہے جس کی ترقی و خوشحالی کیلئے سب کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔

چودھری نثار/ اجلاس