زرداری کو گریجویٹ نہ ہونے پر بھی اجازت دی گئی تھی‘ ہم نے احتجاج نہیں کیا: شہباز شریف

Jul 31, 2013| Courtesy by : nawaiwaqt.com.pk

news-1375223225-4115

لاہور (خصوصی رپورٹر) وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے صدارتی انتخاب کا بائیکاٹ کر کے جمہوری غلطی کی ہے حالانکہ پیپلز پارٹی اپنے سابق دور میں ڈوگر کورٹس سے من مرضی کے فیصلے کرواتی رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کو صدارتی انتخاب کے بائیکاٹ کی غلطی کا جلد احساس ہو گا، صدارتی انتخاب میں صرف گنتی کی چند جماعتوں نے بائیکاٹ کیا ہے جبکہ سیاسی جماعتوں کی اکثریت نے صدارتی انتخاب میں حصہ لے کر آئینی ذمہ داری کو بطریق احسن ادا کیا ہے۔ وہ گذشتہ روز پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس موقع پر ارکان اسمبلی بھی موجود تھے۔ میڈیا کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے صدارتی انتخاب کے بائیکاٹ کے فیصلے کو جمہوری حلقوں میں پسند نہیں کیا گیا اور یہ پیپلز پارٹی کی جمہوری غلطی ہے جس کا اسے جلد احساس ہو گا کیونکہ پیپلز پارٹی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو غلط رنگ دیا ہے۔ صدارتی انتخاب عدلیہ کے فیصلے کی روشنی میں کرایا گیا ہے کیونکہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مسلمان اعتکاف بیٹھتے ہیں جبکہ کئی ارکان اسمبلی بھی نہ صرف اعتکاف بیٹھتے ہیں بلکہ عمرے کی سعادت کیلئے سعودی عرب بھی جاتے ہیں جس کے باعث اکثر ارکان اسمبلی ملک میں موجود نہیں ہوتے لہٰذا ہم نے نیک نیتی سے عدلیہ سے رجوع کیا اور دوسری جماعت نے بھی عدلیہ سے رجوع کیا تاہم سپریم کورٹ کا صدارتی انتخاب کے شیڈول کو تبدیل کرنے کا فیصلہ آیا جسے اکثریتی جماعتوں نے قبول کیا مگر پیپلز پارٹی نے اس فیصلے سے اختلاف کیا اور صدارتی انتخاب کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور زرداری صاحب وہ تمام فیصلے بھول چکے ہیں جو ڈوگر کورٹس سے حاصل کئے گئے تھے۔ نوازشریف اور مجھے عام انتخابات کیلئے نااہل قرار دینے کا فیصلہ بھی ڈوگر کورٹس نے زرداری صاحب کے کہنے پہ کیا تھا اور ہم پر 20 سال کیلئے الیکشن میں حصہ لینے کی پابندی لگا دی اور یہ ڈوگر کورٹس وہ تھیں جنہوں نے مشرف کی وفاداری کا حلف اٹھایا تھا اور پھر زرداری کے کہنے پر ہمیں نااہل قرار دیا گیا تھا لیکن ہم نے اس پر آئینی جنگ لڑی۔ انہوں نے کہا کہ زرداری گریجوایٹ نہیں تھے تاہم صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کیلئے ڈوگر کورٹس نے زرداری کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی اور صرف زرداری کی ذات کو فائدہ پہنچانے کیلئے ڈوگر کورٹس نے فیصلہ دیا۔ عدالتوں کے فیصلے ملک و قوم اور اداروں کیلئے ہوتے ہیں نہ کہ کسی شخصیت کو فائدہ پہنچانے کیلئے۔ ہم نے اس وقت احتجاج نہیں کیا تھا بلکہ آئینی اور قانونی جنگ لڑی لیکن پیپلز پارٹی نے صدارتی انتخاب کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے سے اختلاف کر کے غلطی کی ہے یہی وجہ ہے کہ صرف گنتی کی چند جماعتوں نے بائیکاٹ کیا ہے جبکہ پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کی اکثریت نے صدارتی انتخاب میں حصہ لیا ہے۔ قبل ازیں وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف صدارتی انتخاب میں ووٹ ڈالنے کیلئے پنجاب اسمبلی پہنچے تو ارکان اسمبلی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ وزیر اعلیٰ سیدھے ایوان میں گئے اور نشست پر بیٹھ گئے۔ بعدازاں ان کا نام پکارا گیا تو انہوں نے صدارتی انتخاب کیلئے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ دریں اثناءشہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے صدارتی امیدوار ممنون حسین کو ملک کا صدر منتخب ہونے پر دلی مبارکباد دی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ نومنتخب صدر ممنون حسین کی صدارتی انتخاب میں کامیابی جمہوریت اور جمہوری قوتوں کی فتح ہے اور صدارتی انتخاب کا مرحلہ خوش اسلوبی سے مکمل ہونے پر تمام جمہوری قوتیں مبارکباد کی مستحق ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ نئے صدر کے انتخاب کا جمہوری عمل بطریق احسن پایہ تکمیل کو پہنچا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ جمہوری روایات اور اقدار کو فروغ دیا ہے اور جمہوریت کے استحکام کیلئے آئندہ بھی جدوجہد جاری رکھیں گے۔