قوم متحد ہو تو دشمن میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا‘ پاکستان کا دفاع مستحکم بلوچستان سے وابستہ ہے‘ صوبے میں فوج آپریشن نہیں کر رہی: چیف آرمی

Sep 07, 2013| Courtesy by : nawaiwaqt.com.pk

news-1378515181-3445

کوئٹہ(بیورو رپورٹ+اے این این) چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پاک فوج کہیں بھی آپریشن نہیں کر رہی صوبے میں پولیس، ایف سی اور لیویز فورس اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں پاک آرمی بلوچستان میں قیام امن سمیت تعمیر و ترقی کے ہر عمل میں حکومت کی بھر پور معاونت کریگی۔ پاکستان کا دفاع، ترقی و خوشحالی مستحکم بلوچستان سے وابستہ ہے چمالنگ، دکی، موسیٰ خیل کول مائنز کاسہ ماربل پروجیکٹ سمیت طبی و معدنی اور معیاری تعلیمی ادارے خوشحال بلوچستان کی ضمانت ہیں۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو ملٹری کیڈٹ کالج سوئی میں 6ستمبر کو یوم والدین کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا کہ بلوچستان میں پاک فوج کہیں بھی آپریشن نہیں کر رہی صوبے میں پولیس، ایف سی اور لیویز فورس اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے زیرانتظام معدنی وسائل کی ترقی اور معیاری تعلیم کے فروغ کیلئے قائم منصوبے مستقبل کی پائیدار ترقی کا مظہر ہیں آرمی سکول معدنیات کے قیام کا مقصد بلوچستان کے جوانوں کو معدنی وسائل میں حصہ دار بنانا ہے تاکہ مقامی لوگ صرف مزدوری نہ کریں بلکہ ان تعلیم و تربیت کے اداروں سے نکل کر اچھی پوزیشن حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے چھا¶نیاں نہ بنانے کا اعلان کیا تھا جس پرعملدرآمد کررہے ہیں اور سوئی میں چھا¶نی کی بجائے معیاری تعلیمی ادارہ قائم کیا ملٹری کالج سوئی کی کارکردگی ہمارے خوابوں کی تعبیر ہے اڑھائی سال قبل قائم کردہ اس کالج کے قیام کا مقصد معیاری تعلیم کی روشنی کو بلوچستان کے احاطے تک پہنچانا تھا تاکہ بلوچستان کی نوجوان نسل قومی دھارے میں شامل ہوکر ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکے ہماری منزل دور نہیں اس کالج کا مستقبل روشن اور تابناک ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ ملک کے پہلے ملٹری کالج کا قیام 88سال پہلے جہلم میں عمل میں آیا جہاں میں خود طالب علم رہا گزشتہ پانچ سالوں میں دو ملٹری کالجز مری اور سوئی میں قائم ہوئے سوئی میں ملٹری کالج کا قیام کئی وجوہات کی بنیاد پر ایک دشوار خواب تھا تاہم مشکل حالات کے باوجود قیام کے بعد اسکی کارکردگی باعث فخر اور بہترین کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاک آرمی کے زیرانتظام 2011ءمیں کوئٹہ میڈیکل کالج قائم کیا گیا جہاں ہر سال ایک سو طالب علموں کو داخلہ دیا جاتا ہے اس سے قبل طبی تعلیم کیلئے قائم بولان میڈیکل کالج میں سالانہ پچاس طالب علموں کو داخلہ دیا جاتا تھا اس طرح اب بلوچستان سے طب کے شعبے میں سالانہ ڈیڑھ سو طلبہ فارغ ہوتے ہیں اس کے علاوہ پاکستان آرمی میں 2007ءتک بلوچستان کے نوجوانوں کی نمائندگی 1.7فیصد تھی جوکہ اب بڑھ کر 3.5فیصد ہوچکی ہے اور 2010ءسے اب تک 12ہزار بلوچستانی پاک فوج کا حصہ بنے۔ بھرتی میں خصوصی رعایت دیکر آبادی کے تناسب سے اہل بلوچستان کو ان کا حق دیا گیا اس کے علاوہ چمالنگ ایجوکیشن پروگرام کے تحت20ہزار سے زائد بچے اور نوجوان ملک کے آرمی، ایف سی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں جبکہ 600بلوچ بچے و نوجوان پاک فوج کی زیر سرپرستی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں گزشتہ پانچ سالوں میں 2ہزار امیدوار آئی ایس بی کی تربیت کیلئے منتخب ہوئے 760بلوچ آفیسرز اور 329 نوجوان پی ایم اے آرمی افسر منتخب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی موزوں قیادت میں نئے سفر کا آغاز ہوچکا ہے وزیراعلیٰ بلوچستان سے تفصیلی ملاقات میں صوبے کی ترقی و خوشحالی و امن کیلئے بات چیت ہوئی سبی سے رکھنی، خضدار سے شہداد کوٹ، گوادر سے رتو ڈیرو شاہراہوں کی تعمیر اور کچھی کینال صوبے کی معاشی ترقی میں اہمیت کی حامل ہیں کچھی کینال کی تکمیل سے ہزاروں ایکڑ بنجر اراضی سیراب ہوگی اور صوبے میں زرعی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا جس سے بگٹی قبائل بھی معاشی طور پر مستحکم ہونگے اس نہر کی تکمیل میں تاخیر ہوچکی ہے تاہم اسکی فوری تکمیل کیلئے حکومت بلوچستان کی مدد کریں گے۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ گزشتہ ادوار حکومت میں ڈیرہ بگٹی سے نقل مکانی کرجانے والے ہزاروں بگٹیوں سے اپیل ہے کہ وہ واپس اپنے اپنے گھروں کو آجائیں ڈیرہ بگٹی میں تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے اس موقع پر ڈاکٹر مالک بلوچ نے ملٹری کالج سوئی اور ڈیرہ بگٹی کے تعلیمی اداروں کیلئے ایک ایک کروڑ روپے کے فنڈز دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ سوئی ملٹری کالج میں میرٹ کا معیار غربت کو رکھا جائے اور اس مقصد کیلئے بگٹی قوم کے ہر فرد کو پسماندگی اور غربت کے خاتمے کیلئے جدوجہد کرنا ہوگی صوبائی حکومت بے گھر بگٹیوں کی آبادکاری کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ ڈاکٹر مالک بلوچ نے ملٹری کالج کی انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

 

 

 

راولپنڈی(آن لائن) پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں اور اپنی حفاظت کرنا بخوبی جانتے ہیں‘ اگر دشمن نے میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا‘ وطن عزیز کو دہشت گردی کا سامنا ہے جس کے مقابلے کیلئے ہمیں 1965ءوالے جذبے اور اتحاد کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دفاع پاکستان کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا۔ آرمی چیف نے کہا کہ اگر قوم متحد ہو تو کوئی بھی دشمن وطن عزیز کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کرسکتا۔ ملک کی مسلح افواج اپنے وطن پر جان قربان کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 6 ستمبر 1965ءکو پاک فوج کے جوانوں نے اپنی قیمتی جانوں کی قربانیاں پیش کرکے ملک کیلئے لازوال تاریخ رقم کی اسلئے یوم دفاع ہماری تاریخ کا ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 6 ستمبر کو ہماری افواج نے شہادتیں دے کر دفاع کو یقینی بنایا تھا حالانکہ وطن عزیز کی افواج کی تعداد اس وقت عددی کم تھی لیکن دشمن کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ ہماری فوج دشمن کی عددی برتری سے خوفزدہ نہیں ہوئی اور وطن عزیز کی خاطر وہ قربانیاں دیں جو تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھی جائیں گی۔ آرمی چیف نے کہا کہ آج وطن عزیز کو دہشت گردی کا سامنا ہے اور اس دہشت گردی کے خاتمے کیلئے 6 ستمبر والے جذبے اور اتحاد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاک فوج کے جوان دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بھی کامیابیوں سے ہمکنار ہوئے۔ ہم ایک زندہ قوم ہیں اور اپنے ملک کی حفاظت کرنا بخوبی جانتے ہیں۔ اگر دشمن نے میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات کی تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ دریں اثناءچیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل خالد شمیم وائیں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ماضی کی کامیابی پر خوش فہمی میں مبتلا ہوئے بغیر مسائل کا مقابلہ ہمیں پوری قوت سے کرنا ہوگا۔ اس وقت ملک کو اندرونی اور بیرونی سازشوں کا سامنا ہے جس کی آڑ میں دشمن مزید انتہاپسندی کو فروغ دیکر قوم میں نفاق کا بیج بونا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا دشمن عوام میں مایوسی پھیلاکر وطن عزیز کی سرحدوں کو کمزور کرنا چاہتا ہے اسلئے ہمیں ہوش کے ناخن لینے ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں ماضی کی کامیابی پر خوش فہمی میں مبتلا ہوئے بغیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ علاوہ ازیں چیف آف نیول سٹاف آصف سندھیلہ نے کہا کہ آج پاک بحریہ کو بے پناہ اندرونی اور بیرونی خطرات لاحق ہیں لیکن اس کے باوجود ان خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے پاک بحریہ مکمل طور پر چاک و چوبند ہے۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کو مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کیلئے پاک بحریہ ہمہ تن تیار ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاک بحریہ پر پوری قوم کا اعتماد ہے اور قوم کا اعتماد ہی ہمارا بہترین اثاثہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاک بحریہ دہشت گردی کیخلاف جنگ کا بنیادی حصہ رہی اور اس میں اس کا کردار ہمیشہ کلیدی رہا۔