مذاکرات کا دروازہ کھلا رہنا چاہئے‘ دہشت گردی سے نمٹنے بغیر معیشت بہتر ہو گی نہ قوم کی حالت سدھرے گی: نوازشریف

Jul 11, 2013| Courtesy by : nawaiwaqt.com.pk

news-1373495618-7168اسلام آباد (بی بی سی + اے پی اے) وزیراعظم میاں نوازشریف نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردوں کی پاک سرزمین پر کوئی جگہ نہیں اور حکومت دہشت گردی کے ناسور سے نمٹنے کے لئے ہر قدم اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی دھمکیوں سے مرعوب ہونگے نہ کسی سے بلیک میل ہونگے، دہشت گرد جان لیںہم پاکستان کی بقا کیلئے انتہائی قدم اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرینگے کیونکہ ہمارا منشور صرف اور صرف امن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کر کے دم لیں گے‘ اس لعنت کے خاتمے کیلئے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں، دہشت گردی سے نمٹے بغیر نہ معیشت بہتر ہو سکتی ہے اور نہ ہی قوم کی حالت بدل سکتی ہے۔ فاٹا کو معاشی پسماندگی، دہشت گردی اور امن و امان کی مخدوش صورتحال کا سامنا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف روڈ میپ کو حتمی شکل دینے کے لئے فاٹا ارکان سے مشاورت کی جا رہی ہے۔ بات چیت کا دروازہ ہر وقت کھلا رکھنا چاہئے۔ دہشت گردی سے فاٹا کو امن و امان اور پسماندگی کا مسئلہ ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی سے مسلسل رابطہ ہے۔ فاٹا کے عوام کو امن کا تحفہ دینا چاہتا ہوں اور فاٹا کے ارکان پارلیمنٹ حقیقی فریق ہیں، دہشت گردی کی وجہ سے فاٹا کو لاقانونیت، اقتصادی پسماندگی اور معاشی بدحالی کا سامنا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت بدھ کو فاٹا کے ارکان پارلیمنٹ کا ایک اہم اجلاس وزیراعظم ہاﺅس میں ہوا جس میں خیبر پی کے کے گورنر شوکت اللہ سمیت فاٹا کے ارکان پارلیمنٹ‘ عمائدین اور وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان‘ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید‘ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق‘ وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف اور وفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے شرکت کی جبکہ وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز اور معاون خصوصی طارق فاطمی اور خیبر پی کے سے تعلق رکھنے والی مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں دہشت گردی کیخلاف قومی سلامتی پالیسی تشکیل دینے سے متعلق اہم امور پر غور کیا گیا۔ حکومت تمام متعلقہ حلقوںکو اعتماد میں لینا چاہتی ہے تو اس حوالے سے فاٹا کے پارلیمنٹیرینز سے بھی رائے لی گئی۔ اس موقع پر وزیراعظم نوازشریف نے فاٹا کے ارکان پارلیمنٹ سمیت دیگر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کا چیلنج ہے کہ وہ معیشت کی بحالی کو ممکن بنائے گی اور معیشت کی بحالی کیلئے دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دہشت گردی کا خاتمہ کئے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم بات چیت سے مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں تو دہشت گرد اسے ہماری کمزوری نہ سمجھیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اے پی پی کے مطابق نوازشریف نے کہا کہ امن و سلامتی اقتصادی ترقی کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان دہشت گردوں کے ہاتھوں شدید متاثر ہوا ہے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے رہ سکتے۔