ملالہ کی بہنیں تعلیم کو ترس رہی ہیں!

Jul 18, 2013

سوات کی طالبات کے اندر ملالہ کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ (ایم سی ایف) کے ذریعہ ہمارا ملک بھر کی طالبات کے ساتھ رابطہ ہے۔ جب سے ہم نے (مومنہ چیمہ فاﺅنڈیشن) بنائی ہے، پاکستان بھر سے لڑکیوں کے پیغامات موصول ہو تے ہیں۔ ان کے بقول تعلیم میں سب بڑی رکاوٹ ان کی غربت ہے۔ اکثر لڑکیاں یتیم ہیں اور بیشتر کے والدین دو وقت کی روٹی کے محتاج ہیں اور غربت کی وجہ سے بچیوں کو تعلیم دلوانے سے محروم ہیں جبکہ ڈگری کے بغیر جاب نہیں اور جاب کے بغیر شادی نہیں اور شادی کے بغیر اس معاشرے میں عورت کی کوئی زندگی نہیں۔ ملالہ کی ذہانت اور بہادری نے اسے اقوام متحدہ تک پہنچا دیا، میڈیا رپورٹ کے مطابق ملالہ طالبان کے ظلم کا نشانہ بنی مگر ملالہ پاکستان کی ان تمام لڑکیوں کی آواز نہیں جو محض غربت کی وجہ سے تعلیم سے محروم ہیں۔ ان لڑکیوں کی تعداد کا اندازہ صرف ان لوگوں کو ہو سکتا ہے جن کا تعلیمی اداروں اور غریب سٹوڈنٹس کے ساتھ ”قلبی و عملی تعلق“ ہے۔ پاکستان کے بارے میںعام تاثر پایا جاتا ہے کہ سوات اور دیگر قبائلی علاقوں میں انتہا پسند افراد لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں جبکہ پورے پاکستان کی غریب لڑکیاں معیاری اور اعلیٰ تعلیم سے محروم ہیں۔ ملالہ یوسف زئی تعلیم دشمنوں کے خلاف ایک علامت سمجھی جاتی ہے جبکہ اصل پاکستان صرف ملالہ نہیں، پاکستان کی اکثریت اپنے بچیوںکو تعلیم دلانا چاہتی ہے مگر ان کے پاس مالی وسائل نہیں۔ مشرق تا مغرب طالبان کے مظالم کی بات کی جاتی ہے مگر پاکستان کی ان لڑکیوں کا تذکرہ نہیں کیا جاتا جن کے درس گاہوں میں داخلے بھی ہو جاتے ہیں مگر فیس نہ ہونے کے باعث گھروں میں بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں۔ انہیں کوئی”طالب“ گولی نہیں مارتا بلکہ مایوسی انہیں خود کشی پر مجبور کردیتی ہے۔ ملالہ کی اقوام متحدہ تک رسائی پر پوری دنیا نے اسے خراج تحسین پیش کیا مگر حکومت پاکستان خاموش رہی حالانکہ خراج تحسین، عیادت، مذمت اور تعزیت جیسے بیانات سیاستدانوں کا سرمایہ سیاست ہوتے ہیں۔ مسلم لیگ کی حکومت ملالہ کو خراج تحسین پیش کرنے کی حیثیت میں نہیں کیوں کہ وہ بخوبی جانتی ہے کہ پاکستان کی کروڑوں طالبات تعلیم کے لئے ترس رہی ہیں اور وہ تمام طالبان کے مظالم کی نہیں بلکہ حکومتوں کی غفلت کا شکار رہی ہیں۔ غریب کا بچہ نجی درس گاہوں میں تعلیم حاصل کرنے کا تصور نہیں کر سکتا جبکہ سرکاری درس گاہوں میں بھی سرکاری وظائف محدود ہیں۔ پاکستان میں مخیر حضرات کی مدد سے تعلیم کا سلسلہ جاری ہے جبکہ تعلیم کے لئے عطیات دینے والوںکی تعداد بھی آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے۔ قائداعظمؒ کی جماعت کی علمبردار حکومت سے التماس ہے کہ ملالہ کی بہنوں کے لئے سرکاری وظائف میں اضافہ کیا جائے۔ جس معاشرے کی عورت تعلیم یافتہ نہیں، اس کا مستقبل تاریک ہے۔ (MCF) نے مستحق اور ذہین طالبات کو وظائف دینے کا آغاز پنجاب سے کیا اور اب یہ سلسلہ دیگر صوبوں تک پھیل رہاہے۔ (ایم سی ایف) امریکہ کی نامور یونیورسٹیوں میں سکالر شپ جاری کرنے والی پہلی پاکستانی فاﺅنڈیشن ہے۔ امریکہ میںلابنگ کا بہترین ذریعہ یہاں کے تعلیمی نظام کا حصہ بننا ہے اور اللہ کے فضل سے (ایم سی ایف) نے اس میدان میں قدم رکھا۔ ہاروڈ یونیورسٹی میں (ایم سی ایف) ریسرچ گرانٹ پروگرام کے تحت امریکی سٹوڈنٹس کو برصغیر کے تمدن وثقافت، اسلامی قانون اور اسلامی اقدار پر تحقیق کے مواقع مہیا کئے جاتے ہیں۔ امریکہ کا باشعور طبقہ امریکی یونیورسٹیوں میں سکالر شپ کی افادیت کا ادراک رکھتا ہے مگر پاکستانی خواہ امریکہ میں بستے ہوں، ان کی سوچ مدارس اور مساجد کے صدقہ جاریہ تک محدود ہے۔ اسلام میں مذہب اور رنگ ونسل بلاامتیاز علم کی شمع روشن کرنے کا حکم ہے۔ غزو ہ بدر کے موقع نبی کریم نے مشرک قیدیوں کو صرف اس شرط پر رہا کرنے کا وعدہ کیا کہ ایک قیدی دس مسلمانوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے اور اس سے مراد دنیاوی علم تھا۔ دینی تعلیم و تربیت کے لئے سب سے بڑی درس گاہ مسجد نبوی تھی اور نبی کریم معلم تھے۔ دنیا کا علم حاصل کرنے کے لئے چین بھی جانا پڑے تو جاﺅ، جب کہ لوگ امریکہ آکر بھی علم کی افادیت سے محروم ہیں۔ صدقہ جاریہ اور ثواب کو فقط دینی تعلیم تک محدود کر رکھا ہے۔ ایک امریکی سٹوڈنٹ نے (ایم سی ایف) کی کاوشوں پر ایک نظم پڑھی جس کا اردو ترجمہ کچھ یوں ہے۔ ”مدقوق چہروں اور پسے ہوئے لوگوں سے منہ موڑنے پر یہ الفاظ سنائی دےتے ہیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے اُس کی پرواہ مت کرو۔ یہ مت سمجھو کہ دوسرے تو مصےبت میں مبتلا ہیں، تمہیں آخر پتا چل ہی جائے گا کہ تم بھی اُن سے منہ موڑنے والوں میں شامل ہو۔ یہ گناہ ہے کہ نور اندھیرے میں تبدیل ہو رہا ہے اور اُس نے اپنی چادر بچھا دی ہے ہر اُس چیز پر جسے ہم جانتے ہیں۔ ایک دن آئے گا جب ہمیں پتا چلے گا کہ ہم بھی تنہا ہیں۔ رات کے پروں پر سوار دن اپنی منزل کی طرف گامزن ہے، اُس طرف جہاںوفور جذبات سے ساکت اکٹھے ہوتے ہیں۔ خاموشی کے ساتھ عہدوپیماں باندھ کر اُن کے الفاظ اجنبےت سے بھرپور ہوتے ہیں، جب وہ شعلے سے نےچے اُترتے ہیں تو سحر زدہ ہوتے ہیں رات کے پروں پر سوار وہ تبدیلی کی ہواو¿ں کو محسوس کرتے ہیں۔ کمزور لوگوں سے منہ مت موڑو، اپنے اندر کی ٹھنڈک اور روکھے پن سے منہ مت موڑو، جو تےری بھی ہے اور مےری بھی ہے۔ یہ کھڑے ہو کر گھور گھور کر دےکھنے کے لئے نہیں ہے۔ انگریزی کی یہ نظم درحقیقت علامہ اقبالؒ کی یہ دعا ہے۔ ….
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
دور دنیا کا میرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالاہو جائے
پاکستان میں ملالہ کی لاکھوں بہنیں موجود ہیں جو تعلیم کے لئے ترس رہی ہیں۔ ان کی آواز کو اقوام متحدہ تک کون پہنچائے کہ اقوام متحدہ کے ذریعہ یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان میں لڑکیوں پر صرف ظلم و ستم ہوتا ہے اور انہیں تعلیم سے روکا جاتا ہے۔