نواز شریف نے تیسری مرتبہ ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا

Jun 06, 2013

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے تیسری مرتبہ ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔  حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی ، صدر آصف زرداری نے نواز شریف سے وزارت عظمیٰ کا حلف لیا،8661_10151513403568198_1572878379_n

اس موقع پر نگراں وزیر اعظم میر ہزار خان کھوسو، نگراں وفاقی کابینہ کے ارکان، سابق وزرائے اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور راجا پرویز اشرف، چیرمین سینیٹ نیئرحسین بخاری، ڈپٹی چیرمین صابر بلوچ، اسپیکر قومی اسمبلی ایازصادق، پنجاب کے نامزد وزیراعلیٰ شہبازشریف، سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ، سابق اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹرفہمیدہ مرزا، نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب نجم سیئٹھی، ،  بلوچستان کے نگراں وزیراعلیٰ غوث بخش باروزئی،مسلح افواج کے سربراہان، سیاسی جماعتوں کے قائدین و رہنما، بیگم کلثوم نواز اور مریم نواز سمیت نوازشریف کے خاندان کے افراد، اعلیٰ سرکاری افسران اور غیر ملکی سفارتکار بھی موجود تھےجب کہ تقریب میں سابق صدر جسٹس ریٹائرڈ رفیق تارڑ نے بھی شرکت کی۔

 

اس سے قبل قومی اسمبلی نے نوازشریف کو واضح اکثریت سے قائد ایوان منتخب کیا تھا، مسلم لیگ (ن) کے علاوہ ایم کیوایم، جمعیت علمائے اسلام(ف)، مسلم لیگ فنکشنل، قومی وطن پارٹی، جماعت اسلامی ، عوامی نیشنل پارٹی، آزاد رکن جمشید دستی اورفاٹا کے آزاد اراکین نے بھی  قائد ایوان کے لئے نواز شریف کو ووٹ دیا، نواز شریف نے 244،پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سربراہ مخدوم امین فہیم نے 42 اور تحریک انصاف کے رہنما جاوید ہاشمی نے 31 ووٹ حاصل کئے۔

 

 

نواز شریف 1981 میں ضیا دور کے دوران پنجاب کی صوبائی کابينہ ميں بطور وزيرخزانہ شامل ہوئے، 1985 میں ہونے والے غیر جماعتی انتخابات ميں نواز شریف قومی اور صوبائی اسمبلي کی سيٹوں پرکامياب ہوئے تاہم انہوں نے 9 اپريل 1985 کو پنجاب کے وزيراعلٰی کی حيثيت سے حلف اٹھايا،  31 مئی 1988ء کو جنرل ضياءالحق نے جونیجو حکومت برطرف کردی تاہم نواز شريف کو نگران وزیراعلٰی پنجاب کی حیثیت سے برقرار رکھا گیا۔ نواز شریف 1988کے انتخابات ميں دوبارہ وزیراعلٰی منتخب ہوئے،نومبر 1990کو نواز شريف پہلی بار ملک کے وزيراعظم منتخب ہوئے تاہم وہ اپنی 5 سال کی مدت پوری نہ کر سکے اور اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے ان کی حکومت برطرف کردی۔

 

 

نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کا دوسرا دور حکومت 1997 کے انتخابات کے بعد شروع ہوا جب  ان کی جماعت بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی، اکتوبر 1999ء میں نواز شریف نے اس وقت کے فوج کے سربراہ پرویز مشرف کو ہٹا کر نئے فوجی سربراہ کی تعیناتی کی کوشش کی لیکن فوج نے  ان کی حکومت کا تختہ الٹ کر انہیں اوران کے بھائی شہبازشریف کو حراست میں لے لیا اوران پر طیارہ سازش کیس کا مقدمہ چلا کر انہیں عمرقید کی سزا سنادی گئی تاہم دوست ممالک کی مداخلت کے بعد پرویزمشرف نے انہیں جلاوطن کرکے 10 سال کے لئے سعودی عرب بھیج دیا۔

نواز شریف اپنے خاندان کے ہمراہ جلاوطنی کے بعد 25 نومبر 2007ء کو لاہور پہنچےتاہم 2008 کے عام انتخابات میں انہیں حصہ لینے نہیں دیا گیا، 2013 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کے بعد نواز شریف نے تیسری بار وزارت عظمی کا تاج اپنے سرپر سجایا