پارٹی نے نوازشریف کو وزیراعظم نامزد کردیا: ذرائع‘ حلف اٹھاتے ہی پہلا کام لوڈ شیڈنگ سے نجات دلانا ہے: نوازشریف

May 27, 2013

PML-N President Nawaz Sharifلاہور (وقت نیوز + خبرنگار) انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنے قائد میاں محمد نواز شریف کو باضابطہ طور پر وزیراعظم کے لئے نامزد کردیا ہے اور نواز شریف کی بطور وزیراعظم نامزدگی کی باقاعدہ منظوری 28 مئی کو ہونے والے مسلم لیگ ن کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف بطور پارٹی سربراہ پہلے ہی وزیراعظم کے عہدے کے امیدوار تھے مگر جس طرح شہبازشریف کی بطور وزیراعلی پنجاب نامزدگی باضابطہ طور پر کی گئی ہے اسی طرح میاں نوازشریف کو بھی بطور وزیراعظم نامزد کیا گیا ہے۔ دوسری جانب نواز شریف کے پولیٹیکل سیکرٹری سید آصف کرمانی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کا رائیونڈ میں کوئی مشاورتی اجلاس نہیں ہوا اس حوالے سے میڈیا کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بات ان خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی جن میں بتایا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن نے نواز شریف کو وزیراعظم کے امیدوار کے لئے نامزد کیاہے۔ مسلم لیگ ن کے ذرائع کے مطابق وفاقی وزارتوں کے حوالے سے بھی صلاح مشورے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔ نواز شریف کے قریبی عزیز اسحاق ڈار جو وزارت خزانہ کے مضبوط ترین امیدوار تھے اب وزارت خارجہ کے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ قوی امید ہے کہ وزارت خارجہ کا قلمدان انہیں سونپا جائے گا۔ آن لائن کے مطابق محمد نواز شریف جو جلد تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے والے ہیں انہیں متفقہ طور پر اعتماد کا ووٹ دلانے کیلئے بیک ڈور چینل سے بھرپور کوششیں جاری ہیں مختلف جماعتوں کو اس مقصد کیلئے قائل کیا جارہا ہے ۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق اس مقصد کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف ، ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں سے رابطے کئے گئے ہیں تاکہ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی طرح نواز شریف بھی متفقہ طور پر اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرسکیں۔ اطلاعات کے مطابق امکان ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اس کی حمایت نہیں کرے گی کیونکہ اس کی تمام تر سیاسی مہم بھی مسلم لیگ (ن) کے خلاف تھی۔ اب ووٹ وہ دیتی ہے تو اس کا تشخص مجروح ہونے کا خدشہ ہے۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما اس حوالے سے مختلف آراءکا اظہار کررہے ہیں اگرچہ بعض رہنماﺅں کی رائے ہے کہ جذبہ خیر سگالی کے تحت ملکی مفاد میں نواز شریف کو اعتماد کا ووٹ دیاجائے لیکن تحریک انصاف کے اکثر رہنما اس کی تائید نہیں کرتے۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں سید خورشید شاہ کو اپنا پارلیمانی لیڈر مقرر کردیاہے سید خورشید شاہ پرانے پارلیمنٹرین اور سنجیدہ مزاج لوگوں میں شمار ہوتے ہیں اس لئے توقع کی جارہی ہے کہ خورشید شاہ ساتھیوں کو اس بات پر تیار کرسکتے ہیں کہ وہ نواز شریف کو اسی طرح اعتماد کا ووٹ دیں جس طرح مسلم لیگ (ن) نے پچھلی حکومت کو اعتماد کا ووٹ دیا تھا اور سید یوسف رضا گیلانی متفقہ طور پر قائد ایوان منتخب ہوئے تھے۔