پولیس معاونت کرے گی‘ کراچی میں رینجرز ٹارگٹڈ آپریشن کرینگے: وفاقی کابینہ

Sep 05, 2013| Courtesy by : nawaiwaqt.com.pk

news-1378341857-2328کراچی (سٹاف رپورٹر + نوائے وقت نیوز + ایجنسیاں) وفاقی کابینہ نے کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھرپورکارروائی کی منظوری دیتے ہوئے رینجرز کے اختیارات میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور حکومت سندھ کو ہدایت کی ہے کہ رینجرز کو فوری طور پراضافی اختیارات دیئے جائیں جبکہ کابینہ نے مزید فیصلہ کیا ہے کہ غیر قانونی موبائل سمیں ایک ماہ میں بند کر دی جائیں گی۔ وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس منگل کو وزیر اعظم میاں نوازشریف کی صدارت میں گورنر ہاو¿س سندھ میں منعقد ہوا۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ چند روز میں ایسے اقدامات کریں گے جس سے کراچی کا امن بحال ہو جائے۔ 450 جرائم پیشہ افراد کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ سندھ کو کراچی میں امن کے اقدامات میں کوئی خدشات نہیں ہیں۔ کراچی میں امن و امان قائم کرنے کے لیے فورس بنائی جائے گی جس کا خصوصی قانونی ٹیم جائزہ لے رہی ہے۔ یہ سچ ہے کہ پولیس اور ریاستی ادارے شہر میں امن قائم کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں تاہم کراچی کو فوج کے حوالے کرنا دور کی بات ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے بتایا کہ پولیس میں نچلے درجے میں گڑبڑ ہوئی ہے۔ واٹر بورڈ اور دیگر محکموں میں پولیس کی بھرتیاں کی گئی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں پولیس پر کسی کو اعتماد نہیں اس لئے امن کے لئے رینجرز کو ذمہ داریاں سونپی جائیں گی جس پر وزیر اعلیٰ سندھ بھی رضا مند ہیں۔ گورنر ہاﺅس میں ہونے والے کابینہ کے خصوصی اجلاس میں کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف بھرپور کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ کو جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کے لئے فری ہینڈ دے دیا گیا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ رینجرز کو گرفتار ملزمان سے تفتیش اور ان کے خلاف عدالتوں میں چالان جمع کرانے کے خصوصی اختیارات دئیے جائیں گے۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ کراچی کی امن و امان کی صورت حال پر تفصیلی جائزہ کے بعد یہ تاثر مل رہا ہے کہ پولیس پر لوگوں کا اعتماد نہیں رہا، ان کا کہنا ہے کہ مجرموں کو ضمانتیں مل جاتی ہیں اور صورت حال میں کوئی بہتری نہیں ملتی،کراچی میں چھینی گئی گاڑیاں واپس نہیں ملتیں۔ چین نے بھی ہم سے کہا ہے کہ آپ کے ہاں ہمارے لوگ بھی مارے جارہے ہیں، خراب حالات سے چینی بھی متاثر ہیں تو یہ معاملات انتہائی سنگین ہیں ان حالات کے تدارک کیلئے کارروائی عمل میں لانی پڑے گی اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف حکمت عمل کو اپنانا ہوگا۔ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مناسب کارروائی نہیں ہو رہی، پولیس شاید اس قابل نہیں کہ جرائم اور دہشت گردی کا مقابلہ کر سکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی، فرقہ وارانہ قتل اور دیگر واقعات کے باعث نا صرف مقامی شہری بلکہ غیر ملکیوں کا بھی قتل عام کیا جاتا ہے، ان ہی عوامل کی زد میں کراچی بھی ہے۔ ملک میں ہونے والے اس قتل عام پر ان کے گذشتہ دورہ چین کے دوران وہاں کے حکام نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ جس کی وجہ سے یہ تاثر پھیل گیا ہے کہ پولیس دہشت گردی، بدامنی اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کی اہلیت ہی نہیں رکھتی اور یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے، سندھ خصوصی طور پر کراچی کے بارے میں یہ بات بھی پھیلی ہوئی ہے کہ یہاں پولیس میں سیاسی اور سفارشی بنیادوں پر بھرتیاں ہوئیں ہیں جبکہ واٹر بورڈ تک سے لوگوں کا پولیس کے اعلی عہدوں پر تقرر ہوا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پولیس میں اچھے اور دیانتدار اہلکار بھی ہوں گے لیکن موجودہ صورت حال میں پولیس سے عوام کے تحفظ کی امید نہیں رکھی جا سکتی، زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو پولیس پر اعتماد ہی نہیں، کچھ حلقوں کی جانب سے کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کا بھی مطالبہ سامنے آیا ہے لیکن یہ آپشن بہت دور کی بات ہے۔ اس صورت حال میں انہوں نے رینجرز کو امن کے قیام کی ذمہ داری دینے سے متعلق وزیر اعلیٰ سندھ سے مشاورت کی تو انہوں نے بھی بلاجھجک اس کی تائید کی ہے، انہوں نے کہا کہ کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کو آپریشن کا نام نہیں دینا چاہئے بلکہ اسے ایک ایسی مہم کا نام دیا جانا چاہئے جس میں لوگوں کو امن میسر آسکے۔ ان کی اس سلسلے میں گزشتہ روز ڈی جی رینجرز سندھ سے ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے کھل کر اپنی مجبوریوں سے آگاہ کیا ہے۔ قبل ازیں گورنر ہاﺅس میں اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کراچی میں امن ہر صورت بحال کریں گے اور اب شہر کا امن لوٹنے والوں سے کسی سمجھوتے کی گنجائش نہیں ہے۔ کراچی کے معاملے پر ہم اپنی آنکھیں اور کان کسی صورت بند نہیں کر سکتے، سمجھوتوں اور حیلے بہانوں کا وقت گزر چکا ہے۔ کراچی کا امن تباہ کرنے والوں سے اب آہنی ہاتھوں سے نمٹاجائے گا۔کراچی میں غیر معمولی صورت حال کا تقاضا ہے کہ اب یہاں امن و امان کے لئے غیر معمولی اور سخت ترین اقدامات کئے جائیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروںکا ایکشن اب نظر آنا چاہئے اور امن و امان کو سبوتاژ کرنے والے دہشت گرد قانون کی گرفت میں ہونے چاہئیں۔ کراچی میں تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں ایک مربوط نظام کے تحت کام کریں، وفاق اس حوالے سے ہرممکن تعاون کرے گا۔ اجلاس میں وزیر داخلہ چودھری نثار، وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید اور وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف، وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی زاہد حامد، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹینٹ جنرل ظہیر الاسلام، ڈائریکٹر جنرل رینجرز میجر جنرل رضوان اختر، ڈائریکٹر جنرل آئی بی آفتاب سلطان ، چیف سیکرٹری سندھ محمد اعجاز چودھری اور آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس حکام کو ہدایات دیں کہ سول ادارے انٹیلی جنس معلومات پر ایکشن کو یقینی بنائیں، ایسے گروپ جن کی نشاندہی ہو، ان کے خلاف فوری کارروائی کریں، کراچی میں امن لانے کے لئے بلا تفریق اور مخصوص انداز میں آپریشن کریں۔ انہوں نے کہاکہ انسداد دہشت گردی کے لئے قوانین میں تبدیلی لانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، موجودہ حالات میں پرانے قوانین کے ساتھ امن قائم کرنا خواب ہو گا، کراچی کی صورت حال سے لاتعلق نہیں رہ سکتے، غیر معمولی صورت حال کا تقاضا ہے کہ غیرمعمولی اقدامات کئے جائیں، کراچی امن و امان سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات پر من و عن عمل ہو گا۔ انہوں نے ہدایت دی کہ کراچی میں نو گو ایریاز ہر صورت ختم کئے جائیں۔ وزیراعظم نے وفاقی وزیر داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ سندھ حکومت اور تمام اداروں کے ساتھ مل کر کراچی میں امن کےلئے فوری طور مربوط حکمت علی مرتب کریں۔ دریں اثناءوزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ کراچی کو فوج کے حوالے کرنا دور کی بات ہے۔ کراچی کی عوام کو پولیس پر اعتماد نہیں رہا۔ سنگین جرائم میں ملوث 450 افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہو گی۔ پولیس اس قابل نہیں کہ جرائم اور دہشت گردی کا مقابلہ کر سکے۔ واٹر بورڈ کے ملازمین کو پولیس کی وردی پہنا کر پولیس کا کام لیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے کراچی پولیس کی کارکردگی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی پولیس شہر میں قیام امن میں مکمل ناکام رہی ہے جبکہ رینجرز کی کارکردگی کا معیار بھی بہتر نہیں ہے۔ کراچی کو دہشت گردوں سے نجات دلانے سمیت ملک بھر میں قیام امن کے لئے انسداد دہشت گردی فورس تشکیل دی جائے گی، جس کا معیار فوج کے طرز کا ہو گا۔ ناقص تفتیشی نظام اور کمزور قوانین کو مربوط بنانے کے لئے قانونی ماہرین اور عدلیہ سے مشاورت کے بعد دہشت گردی کے حوالے سے نئے قوانین بنائے جائیں گے۔ کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن ایک ماہ کے لئے نہیں بلکہ جرائم پیشہ عناصر کے خاتمے تک جاری رکھا جائے گا۔ غیر قانونی موبائل سمز کی بندش کے لئے بھی پالیسی بنائی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو گورنر ہاﺅس میں اخبارات کے مدیران اور سینئر صحافیوں سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے دو گھنٹے تک کراچی کی صورت حال پر صحافیوں سے تفصیلی مشاورت کی۔ صحافیوں نے وزیراعظم کو کراچی کے حالات کے حوالے سے مختلف تجاویز دیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم کراچی کی صورت حال کو سمجھ رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو کراچی میں امن و امان کے قیام پر کوئی خدشات نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بھرپور خواہش ہے کہ پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کو آن بورڈ لیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ مجھے کراچی میں امن و امان کی صورت حال پر بہت تشویش ہے۔ اسی لئے میں دو روز سے کراچی میں ہوں، مختلف سیاسی جماعتوں، تاجروں، قانون نافذ کرنے والوں اداروں سے میں نے کراچی صورت حال پر تفصیلی مشاورت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کا مسئلہ چٹکی بجاتے ہی حل نہیں ہوسکتا اس کے لئے قلیل، درمیانی اور طویل المدت پالیسیاں مرتب کرنی ہوں گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ کراچی میں امن قائم کرنے میں پولیس مکمل ناکام رہی ہے اور رینجرز کارکردگی بھی اطمینان بخش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کراچی کو دوبارہ روشنیوں کا شہر بنائے گی اور یہاں امن کا خواب لازمی پورا ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کراچی سمیت ملک بھر میں پولیسنگ کا نظام مضبوط کرنا ہو گا۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ایک انسداد دہشت گردی فورس بھی قائم کی جائے گی، جس کی تربیت فوجی طرز کی ہو گی اور یہ جدید وسائل سے لیس فورس ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پراسیکیوشن کے نظام میں بھی اصلاحات کی جائیں گی اور دہشت گردی کے حوالے سے نئے قوانین مرتب کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر واضح کیا ہے کہ کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کریں، اب کوئی عذر قبول نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعظم نوازشریف نے صحافیوں سے کہا ہے کہ وہ تجاویز دیں جس سے ہمیں کراچی کے مسئلے کے حل میں مدد ملے۔ اے پی پی کے مطابق صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کراچی میں سنگین جرائم اور دہشت گردی سے متعلق وارداتوں سے نمٹنے کیلئے خصوصی فورس بنائی جائے گی۔ نئی فورس کو فوج کی طرز پر تربیت دی جائے گی اور اس میں مکمل طور پر میرٹ پر بھرتیاں کی جائیں گی۔ فورس کے قیام میں 6ماہ سے ایک سال کا عرصہ لگے گا۔مزید براں کراچی آپریشن میں حساس نوعیت کے فیصلے کئے گئے۔ وزیر داخلہ چودھری نثار نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ قانونی مسائل سے نمٹنے کیلئے وفاقی وزیر زاہد حامد پراسیکیوٹر جنرل شہادت اعوان اور ایم کیو ایم کے فروغ نسیم پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی گئی۔ وزیراعظم کہتے ہیں کہ انسداد دہشت گردی کیلئے قوانین تبدیل کئے جائیں گے۔ پرانے قوانین سے مسائل حل نہیں ہونگے۔

 

 

کراچی (نوائے وقت رپورٹ + اے این این) وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس کے بعد گورنر اور وزیر اعلیٰ سندھ کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے بتایا کہ اجلاس میں کراچی میں قیام امن کے حوالے سے متعدد اہم فیصلے کئے گئے ہیں، کراچی میں آپریشن ٹارگٹڈ ہو گا جو رینجرز کے ذریعے کیا جائے گا، پولیس معاونت فراہم کرے گی اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کے لئے وفاقی اور صوبائی انٹیلی جنس اداروں سے معلومات بھی لی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کی جا رہی ہے جس میں وفاقی وزیر داخلہ، وفاقی انٹیلی جنس اداروں، رینجرز، نادرا، نارا اور صوبائی حکومتوں کے نمائندے شامل ہونگے یہ کمیٹی ہر ہفتے اجلاس کرے گی جس میں کارروائیوں کا جائزہ لے گی آپریشن کے انتظامات اور معاملات کو کنٹرول کرے گی۔ کراچی میں 4 جرائم میں ملوث عناصر بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلرز، اغوا برائے تاوان اور سٹریٹ کرائمز میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی ہو گی اس ضمن میں انٹیلی جنس اداروںنے سینکڑوں ملزمان کی نشاندہی کر دی ہے اور فہرستیں فراہم کر دی ہیں۔ فوجی اور سول انٹیلی جنس اداروں کی فہرستیں بہت واضح ہیں اگلے چند دنوں میں ایکشن ہوتا ہوا نظر بھی آئے گا۔انہوں نے کہا کہ آپریشن کے لئے رینجرز کی جانب سے بھی کچھ تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا جن میں یہ بات بھی شامل تھی کہ جن ملزمان کو گرفتار کیا جاتا ہے وہ آگے جا کر چھوٹ جاتے ہیں۔ رینجرز کے اختیارات کا معاملہ انویسٹی گیشن اور پراسیکیوشن کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے پالیسی گائیڈ لائنز کی منظوری دے دی ہے جس سے رینجرز کے تحفظات دور ہو گئے ہیں اور جو رہ گئے ہیں وہ بھی چند دنوں میں دور ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی سندھ حکومت کے ماتحت ہو گی وزیر اعلیٰ سندھ کو عوام نے مینڈیٹ دیا ہے انہیں کسی آمر نے مسلط نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسائل پوائنٹ سکورنگ سے حل نہیں ہونگے سندھ حکومت اور ایم کیو ایم کو نظر انداز کر کے کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی اکٹھے ہو کر کام کرنا ہو گا۔ سندھ کی نمائندہ جماعتوں کو نظرانداز کر کے کوئی بھی کارروائی کرنے سے ہمارے اپنے اندر سیاسی لڑائی شروع ہو جائے گی جس کا جرائم پیشہ عناصر فائدہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی تمام جماعتوں تاجروں، سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی ہے اور سب نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن ہونا چاہئے۔ وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ وہ کراچی میں مسائل کے حل کا راستہ تلاش کرنے آئے ہیں۔ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کسی کی تضحیک کرنے یا تفریق ڈالنے نہیں آئے نہ ہی ہم کسی کے حقوق کو پامال کرنا چاہتے ہیں۔ کراچی مشکل ترین حالات سے گزر رہا ہے اور ہم ان حالات کو سدھارنے میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں اس مقصد کے لئے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر کام کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں بعض ایسے فیصلے بھی ہوئے جو حساس نوعیت کے ہیں اور ان کا اعلان نہیں کیا جا سکتا ان فیصلوں کو منظر عام پر لانے سے جرائم پیشہ عناصر چوکنا ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یہاں سیاست نہیں کرنی مسائل کا حل ڈھونڈنا ہے اور مسائل کا حل مشاورت اور اتفاق رائے سے ہی تلاش کیا جا سکتا ہے وزیر اعلیٰ سندھ نے تمام امور پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں وفاقی وزیر زاہد حامد کی سربراہی میں بھی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں پراسیکیوٹر جنرل سندھ، ایم کیو ایم کے سینیٹر فروغ نسیم اور قانونی ماہرین کو شامل کیا گیا ہے یہ کمیٹی پراسیکیوشن میں موجود خامیوں، گواہی کے قانون میں موجود کمزوریوں اور دیگر قانونی معاملات کی نشاندہی کرے گی اور اس ضمن میں اپنی تجاویز پیش کرے گی اس کمیٹی کا ایک اجلاس ہو چکا ہے اور مزید اجلاس بھی ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اگلے چند دنوں میں سندھ پولیس کے اندر تبادلے اور تقرر کریں جو پولیس اہلکار یا افسران وردی میں جرائم میں ملوث ہیں یا ان کا جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں سے گٹھ جوڑ ہے کرپشن میں ملوث ہیں انہیں عہدوں سے نہ صرف فارغ کیا جائے بلکہ گرفتار کر کے کارروائی کی جائے۔ پولیس کے لئے بدنامی کا باعث بننے والے کسی اہلکار کو معاف نہ کیا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری یا آئی جی سندھ کو تبدیل کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا میڈیا بریکنگ نیوز کے چکر میں نہ پڑے کسی بھی خبر کو چلانے سے پہلے تصدیق کر لے مسائل گھمبیر ہیں یہ ٹی 20 کا میچ نہیں ہے۔ کراچی میں کوئی بھی فیصلہ صوبائی حکومت کی مشاورت کے بغیر نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں ڈی جی رینجرز کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جس میں آئی جی سندھ اور انٹیلی جنس اداروں کے نمائندگان بھی شامل ہونگے اس کمیٹی کا ہر روز اجلاس ہو گا اور صورتحال کا جائزہ لے کر کارروائی کی جائے گی۔ چوہدری نثارنے کہا کہ اجلاس میں غیر قانونی سموں کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے اور یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس وقت 40 لاکھ سے زائد سمیں غیر رجسٹرڈ ہیں قواعد و ضوابط سے ہٹ کر اب بھی سموں کا اجرا ہو رہا ہے اور دہشت گرد و جرائم پیشہ عناصر ان سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں غیر قانونی سمیں ان لوگوں کے لئے بڑا ذریعہ ہیں۔ غیر قانونی سموں کے خلاف بھی فوری ایکشن کا فیصلہ ہوا ہے موبائل کمپنیوں کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ حکومتی گائیڈ لائنز پر عمل کریں اس ضمن میں، میں نے آج اہم اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں اہم فیصلے ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں کراچی میں آپریشن کی مانیٹرنگ کے لئے بھی ایک کمیشی تشکیل دی گئی ہے جس میں سول سوسائٹی کے غیر سیاسی لوگ، تاجر نمائندے اور سینئر صحافی بھی شامل ہونگے جو کارروائیوں کی مانیٹرنگ کریں گے تجاویز دیں گے اور اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کسی بے گناہ شخص کو تو گرفتار نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن مکمل طور پر سیاسی مصلحتوں سے پاک ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ گرفتار لوگوں سے پوچھ گچھ کے لئے کراچی کے ہر ضلع میں ایک تھانہ متعین کیا جائے گا جسے فوکل پوائنٹ کے طور پر استعمال کیا جائے گا اور گرفتار لوگوں سے پوچھ گچھ کے دوران رینجرز کے اہلکار بھی انویسٹی گیشن کر سکیں گے۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ وزیراعظم نے بارہا واضح کیا ہے کہ ہم تمام سیاسی جماعتوں کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں اور کراچی میں صرف امن کا راستہ تلاش کرنے آئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آج میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں کوئی بات نہیں کروں گا اس معاملے پر آئندہ بات چیت ہوتی رہے گی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ کراچی کے مسائل صوبائی خودمختاری اور آئین کے اندر رہ کر حل کئے جائیں گے۔ سندھ کی زیادہ تر جماعتوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کراچی میں فوج کو نہیں بلایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں امن و امان سے متعلق مسائل پر وزیراعظم اور وفاقی کابینہ سے بات ہوئی، تمام جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ کراچی میں فوج کی ضرورت نہیں، تمام جماعتوں کا کہنا ہے کہ رینجرز کارروائی کرے اور نتائج سامنے آئیں۔ کراچی کا مسئلہ محض سندھ کا نہیں ملک کا مسئلہ ہے، کراچی کا مسئلہ حل کر کے عوام کی پریشانی دور اور اعتماد بحال کریں گے، کراچی کا امن بحال کرنے میں سیاست کا کوئی عمل دخل نہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز کے خلاف بھی کارروائی ہو گی۔ ہر ضلع کے ایک تھانے میں رینجرز بھی تفتیش کر سکیں گے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا کوئی عسکری ونگ نہیں ہے۔