ڈرون حملوں سے بیگناہ مارے جانے پر ’’سوری‘‘ : بان کی مون ۔۔۔ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق چاہتے ہیں : نوازشریف

Aug 15, 2013| Courtesy by : nawaiwaqt.com.pk

news-1376523531-4626اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + نوائے وقت نیوز + ایجنسیاں) وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ خطے کے مقدر کا کوئی فیصلہ پاکستان کو شریک کئے بغیر نہیں ہو سکتا۔ پاکستان جنوبی ایشیا کی اہم قوت ہے، جس کا اعتراف عالمی سطح پر کیا جا رہا ہے۔ قوم اور افواج پاکستان کے تعاون سے دہشت گردی پر قابو پا لیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کنونشن سینٹر اسلام آباد میں یوم آزادی کے حوالے سے پرچم کشائی کے بعد تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ تقریب میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون بھی خصوصی طور پر شریک تھے۔ میاں نوازشریف نے کہا کہ 14 اگست کے دن میں پورے پاکستان کو مبارک باد دیتا ہوں اور ان اوورسیز پاکستانیوں کو بھی مبارکباد دیتا ہوں جو وطن سے کہیں دور آباد ہیں لیکن ان کے دل ہمیشہ پاکستان میں رہتے ہیں جو سبز ہلالی پرچم کو اپنی عزت کا نشان سمجھتے ہیں۔ پاکستان ہماری پہچان ہے، یہ پہچان ہمیں آسانی سے نصیب نہیں ہوئی اس کے لئے قربانیوں کی طویل داستان لکھی ہے ان گنت لوگوں نے اپنا لہو پیش کیا، ہمارے بزرگوں نے ہمارے کل کے لئے اپنا آج قربان کیا، قیام پاکستان کے لئے بے شمار قربانیاں دی گئیں، ہم بانی پاکستان کے حضور بھی اپنا نذرانہ لیکر حاضر ہوئے ہیں، قائداعظمؒ جیسی قیادت عطیہ خداوندی سے کم نہیں۔ پاکستان علامہ اقبالؒ کا خواب تھا، قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ نے ہمیں مستقبل کے چیلنجز سے آگاہ کر دیا تھا، آج کا دن ہمیں خود احتسابی کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہم نے جمہوریت کو پنپنے کا موقع دیا؟ کیا آزادی کے بعد ہم اپنی خودی کی حفاظت کر سکے؟ پاکستان برصغیرکی اقلیت کی پکار تھا، یہ ملک اقلیت کی صدائے احتجاج تھی، ہم نے پاکستان کو جدید فلاحی ریاست بنانے کا عزم کیا تھا، ہمیں اپنی اصلاح کرنی چاہئے، پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے، مخالفت کے باجود ہم ایٹمی قوت بنے، ہمیں اب ملک کی تعمیرنو کرنی ہے، پاکستان جنوبی ایشیا کی اہم قوت ہے۔ یومِ آزادی خود احتسابی کا موقع فراہم کرتا ہے، ہماری نیت نیک ہے، ہم نے درست سمت کا تعین کیا ہے، ہمیں اپنی اصلاح کرنی چاہئے، قائداعظمؒ کے وژن کے مطابق ہر سازش کا مقابلہ کر کے منزل تک پہنچا جا سکتا ہے، ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا ہو گا، ہماری نیت نیک اور ارادے بلند ہیں۔ پاکستان خطے میں معیشت اور سیاست کا اہم مرکز ہو گا، عوام کے تعاون سے پاکستان کو ترقی پسند اور فلاحی مملکت میں تبدیل کرینگے، سیاسی اداروں کو مضبوط کیا جائے، بدقسمتی سے آج ہم پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کے سائے منڈلا رہے ہیں، قوم کی زندگی میں اس طرح کے امتحانات آجاتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردوں کو شکست فاش دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، قوم اور افواج پاکستان کے تعاون سے دہشت گردی پر قابو پا لیں گے، ملک کو امن اور سلامتی کا گہوارہ بنائیں گے۔ آنے والی نسلوں کو محفوظ پاکستان دیں گے، عالمی امن کے ساتھ ہماری وابستگی کوئی راز نہیں، پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ اگلے چند دن میں درپیش مسائل پر قوم کو اعتماد میں لوں گا، مستقبل کے نقشے سے قوم کو آگاہ کروں گا، آج ہمیں خدشات کا سامنا ہے لیکن ہمارے پاس خواب ہیں، اتنا کچھ ہے کہ ہم ایک نئی دنیا آباد کر سکتے ہیں۔ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے، پاکستان نے جس طرح مشکل و مخالفانہ فضا میں یہ صلاحیت حاصل کی وہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم دنیا کو حیران کر دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، حالیہ عام انتخابات میں جس طرح قوم نے فیصلہ سنایا ہے وہ بھی اس بات کا اعلان ہے کہ عوامی بصیرت پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے، ہم بحیثیت قوم صحیح فیصلہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں، یہ بھی امید کی ایک تابناک کرن ہے۔ گوادر پورٹ اور اس سے وابستہ مواصلاتی نظام جس کی بنیاد میرے حالیہ دورہ چین میں رکھی گئی پورے علاقے کا معاشی و سیاسی نقشہ انشاء اللہ بدل دے گا۔ اب اس خطے میں انشاء اللہ پاکستان معیشت اور سیاست کا مرکز ہو گا۔ پاکستان کے باصلاحیت لوگ دنیا بھر میں اپنا امتیاز قائم کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے جس جس میدان میں قدم رکھا وہ سب سے نمایاں رہے ۔ آج وہ زرمبادلہ میں اضافے کا ایک بڑا ذریعہ ہیں لیکن اس سے بڑھ کر جب بھی مادر وطن نے آواز دی وہ سب کچھ چھوڑ کر یہاں آگئے، یہ پاکستان کا سٹرٹیجک ریزروز ہے، امید کا ایک ایسا چراغ ہے جو مسلسل لو دے رہا ہے۔ ہمارے سامنے اب ملک کی تعمیرنو کا ایک عظیم اور انتہائی اہم مقصد ہے جس کے تحت ہم نے ملک میں قانون اور آئین کی بالادستی، جمہوری اداروں کے احترام اور ملک کی معیشت کو مضبوط خطوط پر بحال کرنا ہے، ہم میں سے ہر ایک کو اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کی ترقی و خوشحالی میں اپنا حصہ ڈالنا ہو گا اگر آج ہم نے یہ قربانی نہ دی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری نیت نیک اور ارادے بلند ہیں اور ہم نے نہایت خلوص سے درست سمت کا تعین کیا ہے۔ انشاء اللہ ہم اپنی نیک نیتی ، رفقائے کار کی بہترین انتظامی صلاحیتوں، ماہرین کی مشاورت اور عوام کے بھرپور تعاون سے پاکستان کو قائداعظمؒ کے ویژن کے مطابق ایک ترقی پسند اور فلاحی مملکت میں تبدیل کریں گے۔ موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ ملک کے اقتصادی و سیاسی اداروں کو مضبوط کیا جائے اور ایک حقیقی جمہوری طرز حکمرانی کو فروغ دیا جائے تاکہ ملکی معاملات میں شفافیت کا عنصر نمایاں طور پر نظر آئے اور قومی وسائل کا بے جا ضیاع نہ ہو۔ یہی وہ مقاصد تھے جن کے لئے ہمارے بزرگوں نے ایک علیحدہ وطن کیلئے جدوجہد کی تھی۔ اس حقیقت کو ہر گز نظرانداز نہیں کرنا چاہئے کہ ہماری کامیابی بابائے قوم کے اصولوں پر عمل میں پوشیدہ ہے۔ بدقسمتی سے آج ہم پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کے سائے منڈلا رہے ہیں جس کی وجہ سے عوام تشویش میں مبتلا ہے۔ دہشت گردی کی وجہ سے عوام میں پائی جانے والی بے چینی کا نہ صرف مجھے احساس ہے بلکہ بے حد ملال بھی ہے۔ قوم کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ قوموں کی زندگی میں اس طرح کے امتحانات آجاتے ہیں، قوم ایسے حالات میں حوصلے، جرأت، یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ انشاء اللہ ہمارے حوصلے بلند ہیں اور یہ دہشت گردوں کو شکست فاش دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ عالمی امن کے ساتھ ہماری وابستگی کوئی راز نہیں، پاکستان عالمی سطح پر اپنی ذمہ داریاں بخوبی ادا کر رہا ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر پر عملدرآمد کر رہا ہے۔ انہوں نے بانکی مون کی آمد کا خیرمقدم کیا۔

 

 

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + نوائے وقت نیوز + ایجنسیاں) پاکستان اور اقوام متحدہ نے علاقائی اور عالمی مسائل کے حل کیلئے باہمی شراکت میں اضافے پر اتفاق کیا ہے۔ اس اتفاق رائے کا اظہار وزیراعظم نوازشریف اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے درمیان ون آن ون ملاقات میں کیا گیا۔ بعد میں وزیراعظم کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بانکی مون نے کہا اقوام متحدہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور رواداری کے فروغ کیلئے پاکستان کی حمایت جاری رکھے گی۔ پاکستان عالمی امن فورسز مین اہم کردار ادا کر رہا ہے، دہشت گردی کے خلاف اس نے ہزاروں قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان کے ساتھ تما م شعبوں میں تعاون کو فروغ دینگے۔ وزیراعظم نوازشریف سے ملاقا ت کے دوران 2014ء میں افغانستان کی صورتحال اور اقوام متحدہ کے کردار پر بات چیت ہوئی۔ پاکستان میں جمہوریت کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ ستمبر میں نوازشریف سے دوبارہ ملاقات کے منتظر ہیں۔ پاکستانی قوم کوجشن آزادی پر مبارکباد دیتا ہوں۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا عالمی امن اور سلامتی کے قیام کیلئے اقوام متحدہ کی کوششوں میں کردار ادا کیا ہے۔ نوازشریف نے کہا پاکستان علاقے میں امن و سلامتی کیلئے کام کر رہا ہے۔ میری دلی خواہش ہے کہ جموں و کشمیر اور تمام دیرنیہ مسائل کے حل اور کشیدگی میں کمی کیلئے بھارت کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں۔ کنٹرول لائن پر کشیدگی میں اضافہ ہمارے اور سیکرٹری جنرل کیلئے شدید تشویش کا باعث ہے تاہم پاکستان صبر و تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ بھارت بھی موجودہ کشیدگی کم کرنے کیلئے ایسا ہی کرے گا۔ وزیراعظم نوازشریف نے توقع ظاہر کی کہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کے حل میں اہم کردار ادا کریگا۔ اقوم متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں۔ پاکستان بھارت کے ساتھ کشیدگی ختم کرنا چاہتا ہے۔ بانکی مون پاکستان کے دوست ہیں۔ اقوم متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ جموں و کشمیر اور کنٹرول لائن پر کشیدگی سمیت تما م مسائل پر بات ہوئی، ہمار امقصد خطے میں قیام امن ہے۔ نوازشریف نے کہا عالمی امن کے قیام کیلئے پاکستان نے ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا۔ کنٹرول لائن پر کشیدگی باعث تشویش ہے۔ ہمارا مقصد خطے میں قیام امن ہے۔ توقع کرتے ہیں اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کے حل میں کردار ادا کرے گا۔ پاکستان بھارت کے ساتھ تنازعات ختم کرنا چاہتا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں۔ بانکی مون نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان عالمی امن میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی مدد جاری رکھے گا۔ پاکستان میں پرامن انتخابات ہوئے پاکستان کی شاندار میزبانی پر شکریہ ادا کرتا ہوں، ستمبر میں نوازشریف سے دوبارہ ملاقات کا منتظر ہوں۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے پاکستان بھارت کے ساتھ کشیدگی ختم کرنا چاہتا ہے توقع ہے اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مؤثر کردار ادا کرے گا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو لائن آف کنٹرول کی صورت حال سے آگاہ کر دیا ہے، بانکی مون نے کہا کہ پاکستان نے ہر طرح کے چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے، ترقی کے ایجنڈا میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیں گے۔ اقوام متحدہ نے پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے درمیان ون آن ون ملاقات میں عالمی صورت حال، خطے کے حالات، افغانستان میں قیام امن بالخصوص حالیہ پاکستان بھارت تنائو اور سرحدی خلاف ورزی کے واقعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق بانکی مون نے لائن آف کنٹرول کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا پاکستان بھارت کشیدگی کا پورا خطہ متحمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان نے عالمی سطح پر امن کی قیام کی کوششوں کو تقویت پہنچانے کے لئے کردار ادا کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان اور بھارت کو بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا چاہئے۔ بانکی مون نے کہا کہ انتقال اقتدار کا مرحلہ خوش اسلوبی سے مکمل ہونے پر جمہوریت مضبوط ہو گی۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا پاکستان نے عالمی امن میں ہمیشہ مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں۔ پاکستان میں جمہوری اداروں کے استحکام کے لئے بانکی مون کے کردار کے معترف ہیں۔ پاکستان نے دہشت گرد اور انتہا پسند قوتوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے ہزاروں قیمتی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ اقوام متحدہ ہم آہنگی، رواداری، برداشت اس کے فروغ کے لئے کردار ادا کرتا رہے گا ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں تمام ممالک کے تعلقات بہتر ہوں۔ ترقی کے عالمی اہداف کے حصول کے لئے پاکستان کے ساتھ تعاون کریں گے ترقی کے ایجنڈے میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیں گے۔ پاکستان نے دہشت گردی سمیت دیگر تمام چیلنجز کا سامنا کیا ہے پاکستان کو ماحولیاتی تحفظ کے لئے معاونت فراہم کی جائے گی۔ غربت کے خاتمے، تعلیم کے فروغ کے لئے مدد کی جائے گی۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بانکی مون نے کہا کہ وہ امریکی ڈرون حملوں میں بے گناہ لوگوں کی ہلاکت پر پاکستانی عوامی کو ’’سوری‘‘ کہتے ہیں، مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں حساس مسئلہ ہے، امید ہے پاکستان اور بھارت مذاکرات جاری رکھیں گے۔ ڈرون حملوں کے ذریعے عالمی قوانین کی خلاف ورزی قابل مذمت ہے۔ واضح رہے اسلام آباد میں خواتین ارکان پارلیمنٹ سے خطاب میں بھی بانکی مون نے کہا کہ پاکستان پر ڈرون حملوں کی حمایت نہیں کرتے، ان کی مذمت کرتے ہیں۔

nawaiwaqt.com.pk