ڈرون حملوں پر کوئی معاہدہ نہیں‘ امریکہ سے سخت احتجاج کیا‘ معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھائیں گے : نوازشریف

Aug 27, 2013| Courtesy by : nawaiwaqt.com.pk

news-1377560946-7489اسلام آباد (اے این این + آن لائن) وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے قومی اسمبلی میں واضح کیا ہے ڈرون حملوں کے بارے میں امریکہ سے کوئی معاہدہ نہیں، یہ کارروائیاں سراسر ہماری خودمختاری کی خلاف ورزی ہےں معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے گا، ہم ڈرون حملوں کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کیخلاف مشترکہ اہداف کے حصول میں رکاوٹ تصور کرتے ہیں۔ یہ بات وزیراعظم اور وزیر خارجہ میاں نوازشریف کی طرف سے پیر کی شام قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران حکومتی رکن اسمبلی شیخ روحیل اصغر کے سوال پر ایوان کو تحریری طور پر بتائی گئی۔ نوازشریف نے کہا ڈرون حملے ہماری خود مختاری کی خلاف ہیں، ڈرون حملوں پر ابہام زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔ حکومت کی ڈرون حملوں پر پالیسی بڑی واضح ہے، میںنے قومی اسمبلی میں پانچ جون 2013ءکو اپنے پہلے خطاب میں اپنی حکومت کے مطالبہ کو دہرایا تھا کہ ڈرون حملے بند ہونے چاہئیں، میری ہدایت پر دفتر خارجہ نے حالیہ ڈرون حملوں کیخلاف امریکی حکومت سے سخت احتجاج کیا تھا ، حکومت پاکستان نے زور دے کر کہا ہے ڈرون حملے پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ، علاقائی سلامتی، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قرادادوں کی خلاف ورزی ہےں۔ انہوں نے کہا ڈرون حملوں سے امریکہ مخالف جذبات کو ہوا ملتی ہے، ان حملوں میں انسانی جانوں کا ضیاع بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ علاوہ ازیں اس میں ہونیوالے جانی نقصان سے بین الاقوامی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان اپنے ہم خیال ممالک، تنظیموں اور بین الاقوامی فورموں بشمول اقوام متحدہ سے ڈرون حملوں کے قانونی پہلوﺅں کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے مضمرات پر گفت و شنید میں مصروف ہے۔ آن لائن کے مطابق شیریں مزاری کے سوال کے جواب میں انجینئر خرم دستگیر نے ایوان کو بتایا امریکہ کے ساتھ بات چیت ہو رہی ہے اور موجودہ حکومت ڈرون حملے رکوانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ انہوں نے ایوان میں انکشاف کیا امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں حکومت نے مطالبہ کیا ہے ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کی جائے۔

nawaiwaqt.com.pk