ڈرون حملوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کی تیاری شروع کردی : ترجمان دفتر خارجہ

Sep 13, 2013| Courtesy by : nawaiwaqt.com.pk

news-1379029269-9149

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر + ثناء نیوز) ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا ہے کہ حال ہی میں منعقدہ کل جماعتی کانفرنس کی سفارشات کی روشنی میں پاکستان نے اپنے قبائلی علاقوں میں امریکہ کے ڈرون حملوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں لے جانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ جمعرات کے روز یہاں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا کہ ڈرون حملوں کے خلاف پاکستان کے مؤقف کو عالمی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے اور اس معاملہ کو اقوام متحدہ میں اٹھانے کے لئے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز اور جنیوا میں پاکستان کے سفارتخانوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور ان سے مشاورت سے تیاری کی جا رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ نہیں جس کے تحت پاکستان میں ڈرون حملے کئے جا سکتے ہوں۔ ان سے پوچھا گیا کہ کس ملک کے اڈے پاکستان میں ڈرون حملوں کے لئے استعمال کئے جا رہے ہیں تو ترجمان نے کہا کہ انہیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم میاں نوازشریف 16 ستمبر کو سرکاری دورے پر ترکی جا رہے ہیں۔ ان کے دورہ کے نتیجہ میں دونوں برادر ملکوں کے درمیان پہلے سے موجود تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔ نیویارک میں پاکستان اور بھارت وزرائے اعظم کے درمیان ممکنہ ملاقات کے بارے میں ایک جیسے متعدد سوالات کو جواب میں ترجمان نے بتایا کہ دونوں ملک اس ضمن میں باہم رابطہ میں ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ڈرون حملے پاکستان کی خودمختاری، جغرافیائی سالمیت کے خلاف ہیں اور ڈرون حملوں کے نتیجہ میں دہشت گردی کو فروغ مل رہا ہے۔ ملا برادر کی ممکنہ رہائی کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ انہیں مناسب وقت پر رہا کیا جائے گا۔ افغانستان میں قومی مفاہمت کے عمل اور قیام امن کی کوششوں کی کامیابی کے لئے پاکستان یہ اقدام کر رہا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ تمام سٹیک ہولڈروں کی شمولیت کے بغیر افغانستان میں امن عمل کی کامیابی ممکن نہیں ہو گی۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کی جائے گی۔ افغانستان میں پائیدار امن کے قیام اور قومی مفاہمت کے لئے ایسے سیاسی حل کی حمایت کی جائے گی جس کی قیادت افغانستان خود کرے۔ پاکستان، بھارت تعلقات کے بارے میں متعدد سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ آج جمعہ کے روز شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر وزیراعظم کے مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز اور بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید کے درمیان ملاقات ہو گی۔ اس موقع پر دوطرفہ تعلقات زیر غور آئیں گے۔ ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم نوازشریف 16 ستمبر سے ترکی کا تین روزہ دورہ کریں گے جس کے دوران وہ ترک قیادت کے ساتھ معیشت، تجارت، توانائی اور سرمایہ کاری سمیت مختلف معاملات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ انہوں نے ان خبروں کو مسترد کر دیا کہ نوازشریف قطر میں قائم طالبان کے دفاتر کو ترکی منتقل کرنے کے معاملہ پر ترک قیادت سے بات کریں گے۔ شام میں بے گناہ جانی ضیاع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ شام کے مسئلہ کا کوئی بھی حل اقوام متحدہ کے منشور کے تحت ہونا چاہئے۔ شام میں پاکستانی سفارتخانہ کام کر رہا ہے اور کسی حملے کی صورت میں پاکستانیوں کے ہنگامی انخلا کی تیاریاں مکمل ہیں۔ ترجمان سے پوچھا گیا کہ حال ہی میں اسلام آباد کے مضافات سے کشمیری افراد کو گرفتار کیا گیا جو مقبوضہ کشمیر کی حریت رہنما آسیہ اندرابی کے رشتہ دار ہیں تو ترجمان نے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ ثناء نیوز کے مطابق ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستانی قید سے طالبان قیدیوں کی رہائی کا مقصد افغان مفاہمتی عمل میں تعاون کرنا ہے، پاکستان، بھارت وزائے اعظم کی ملاقات نیویارک میں ہو گی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغان مفاہمتی عمل میں تعاون کا وعدہ کیا تھا اسی حوالے سے افغان اعلیٰ امن جرگے کے کہنے پر طالبان قیدیوں کی رہائی عمل میں آئی ہے اور اسی جذبے کے تحت ملا برادر سمیت 7 افغان قیدیوں کو چند دنوں میں رہا کیا جائیگا۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مختلف سطح پر روابط موجود ہیں۔ اس کا مقصد افغانستان میں امن واستحکام لانا ہے اسی کوشش کے تحت دونوں ممالک کی پارلیمانی دفاعی کمیٹیوں کے مذاکرات ہوئے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اے پی سی میں سیاسی قیادت نے دانشمندی کا ثبوت دیا جس کے و سیع تر اثرات مرتب ہوں گے۔

nawaiwaqt.com.pk