ڈرون حملے‘ امریکہ کو اجازت‘ عوام کے سامنے بیان بازی‘ ایسا نہیں چلے گا: نوازشریف

Jun 11, 2013

news-1370910168-3829اسلام آباد (نوائے وقت نیوز + ثناءنیوز + اے پی پی) وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے ہمارے سامنے پاکستان ہے کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے قومی مفادات کا تحفظ کریں گے ملک و قوم کی مصیبتوں سے جان چھڑائیں گے۔ عوامی مسائل کے حل کے لئے مضبوط حکومت ضروری ہے۔ کام کرنے والے میرے دوست ہوں گے ملی مفاد کو مقدم رکھنا ہو گا، انسداد بدعنوانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ملک اقتصادی بد حالی کا شکار ہے ملک میں انقلاب برپا کریں گے۔ وزیراعظم نے تمام وزرا کو تیس فی صد اخراجات کی کمی کی ہدایت کر دی ہے۔ وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار پیر کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا وزیراعظم نے کہا کہ وزارتوں کی باقاعدگی سے کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ قومی دولت کو ضائع نہیں ہونے دیں گے نہ میرا کوئی ذاتی مفاد ہے نہ کسی اور کے ذاتی مفادات ہونے چاہئیں ہم سب کو پاکستان کو سامنے رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دیر سے پرامن انتقال اقتدار کا مرحلہ آیا ہے۔ منقسم مینڈیٹ کی وجہ سے سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ در حقیقت منقسم مینڈیٹ ہی ملکی مسائل کے حل میں رکاوٹ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس وزیر نے کارکردگی نہ دکھائی تو اس کا کابینہ میں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہوگا کرپٹ عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہو گی قومی مسائل کے حل بالخصوص بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی کے لئے جان مار دیں گے۔ نواز شریف نے کہا کہ پاکستان جن مصیبتوں میں گرفتار ہے ان سے نجات دلائیں گے ضروری ہے حکومتی استحکام ہو عوامی مسائل کے حل کے لئے مضبوط حکومت ضروری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کی محرومیوں کو ختم کرنے کے لئے تمام ممکنہ وسائل کو بروئے لایا جائے گا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ تمام فریقین سے مشاورت کے بعد دہشت گردی کے مسئلہ کا حل نکال لیا جائے گا کرپشن اور بدعنوانی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کابینہ کے ارکان اخراجات کم کریں اور عوام مسائل حل کریں ۔ دن رات کام کریں صرف کام کرنے والا ہی میرا دوست ہو گا۔ لوڈشیڈنگ کے مسئلہ کے حل کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ عوام نے (ن) لیگ کو واضح مینڈیٹ دیا ہے۔ اس کا احترام ہر صورت ممکن بنایا جائے گا میاں نواز شریف نے بھرپور مینڈیٹ دینے پر عوام کا شکریہ ادا کیا۔ میاں نواز شریف نے کہاکہ وہ لکھی ہوئی تقریر نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوڈشیڈنگ کے مسئلہ پر قابو پانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے اور اس مسئلہ پر قابو پایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت سے دہشت گردی کے مسئلہ پر قابو پانے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزراءکارکردگی دکھائیں اور جو وزیر کارکردگی نہیں دکھائے گا وہ کابینہ میں نہیں رہ سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو مسائل کا سامنا ہے۔ حکومتی اخراجات میں 30 فیصد کمی لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری اداروں میں کرپشن برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزرا کی کارکردگی کا ہر چھ ماہ بعد جائزہ لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نہ خود کرپشن کریں گے اور نہ ہی کسی کو کرپشن کرنے دیں گے۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے تن من اور دھن کی بازی لگا دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین پر عملدرآمد سے ہی تمام اداروں میں استحکام آ سکتا ہے۔ آئین کی حدود اور احکامات کی پاسداری ہم سب پر فرض ہے۔ اجلاس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملک کی معاشی صورت حال پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں ملک میں جاری توانائی بحران پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے بحران کے حوالہ سے بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ بجلی بحران پر قابو پانے کے لئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔ عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے جبکہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ یقینی بنایا جائے جبکہ میاں نواز شریف نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا سیاسی انتقام سے بالاتر ہو کر نیا احتساب بل لایا جائے گا۔ کرپشن کرنے والوں کا ہر صورت احتساب کرنا ہو گا۔ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے عوام کی توقعات ناجائز نہیں۔ حکومت کو ہر صورت عوام کی توقعات پر پورا اترنا ہے۔ اگر کسی وزیر کو کوئی مسئلہ ہو تو براہ راست مجھ سے بات کرے۔ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے عوام کی توقعات ناجائز نہیں۔ ڈرون حملوں کا معاملہ بھرپور انداز میں اٹھائیں گے۔ ڈرون حملوں پر پہلے بھی م¶ثر احتجاج کیا ہے۔ عوام کے سامنے مخالفانہ بیان بازی اور امریکہ کو ڈرون حملوں کی اجازت دینے کی پالیسی نہیں چلے گی۔ امریکی حکومت کو پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری کا احترام کرنا ہو گا۔ ڈرون حملے کے خلاف تمام فریقین کو اعتماد میں لے کر موثر پالیسی وضع کی جائے۔ وفاقی وزرا کو 15 دن میں وزارتوں کا ایکشن پلان تیار کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا بلوچستان کے عوام کی محرومیوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔ بلوچستان میں ترقی کے نئے مواقع پیدا کئے جائیں گے۔ بے روزگاری کے خاتمے اور سہولتوں کی فراہمی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔ وزرا 2 ہفتوں میں اپنی ترجیحات طے کر لیں۔ ہر 6 ماہ بعد وزرا کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ نوازشریف نے وفاقی کابینہ کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان ہماری ترجیح ہونی چاہئے اور ہماری کوششوں کا محور مسائل کا حل ہونا چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے شہریوں نے بھاری مینڈیٹ کے ذریعے ان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں عوام کی توقعات پر پورا اترنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ کے ارکان کو چیلنجوں کو سنجیدہ لینا چاہئے، ہمیں جمود اور اپنے ذاتی مفادات کو ایک طرف رکھتے ہوئے قومی نصب العین کے لئے نئے جذبے سے سرشار ہونا ہو گا۔وزیراعظم نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے قابل عمل حل تلاش کرنے کے سلسلہ میں 11 مئی سے 5 جون تک ہم نے کئی اجلاس منعقد کئے، ہمیں نئے بجلی گھروں کے قیام کا جائزہ لینا ہو گا کیونکہ تھرمل پاور انتہائی مہنگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں لائن لاسز اور بجلی کی چوری کی روک تھام کرنا ہو گی ہم اس بحران کے تمام ذمہ داروں کو سزا دیں گے جس کی وجہ سے عوام کو بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان سٹیل ملز، پی آئی اے اور بھاری نقصان میں جانے والے دیگر اداروں کی صورتحال پر خفگی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ سرکاری شعبہ کے اداروں کو چلانے کے لئے تمام امکانات کا جائزہ لیا جائے گا جن میں نجکاری، سرکاری و نجی شراکت داری اور باصلاحیت چیف ایگزیکٹو افسران کی تعیناتی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو انتہا پسندی، شدت پسندی اور فرقہ واریت جیسے مسائل کا سامنا ہے جس سے نجات کے لئے تمام کوششیں کی جانی چاہئیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو بین الاقوامی تنہائی کا سامنا ہے، عالمی ماحول ملک کے لئے سازگار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ڈرون حملوں کا پہلے ہی نوٹس لیا ہے اور مناسب سطح پر سخت احتجاج کیا ہے، ڈرون حملے ہماری خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں جنہیں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال معمول پر آ رہی ہے جہاں ہم حکومت سازی کر سکتے تھے تاہم ہم نے صوبہ کی قیادت کو اس کا موقع دیا۔ وزیراعظم نے توقع ظاہر کی پاکستان کے عوام کی فعال حمایت کے ساتھ ان کی ٹیم اور حکومت ملک میں امن اور خوشحالی لائے گی۔وزیراعظم نے وزرا سے کہا کہ قومی نصب العین کے لئے ہر چیز قربان کرنے کا عہد کرنا چاہئے، اپنی صلاحیتوں کے ساتھ اپنا عمل ثابت کرنا چاہئے۔