کرپٹ لوگوں کا بائیکاٹ کیا جائے‘ عوام اٹھ کھڑے ہوں تو مثبت تبدیلی آ سکتی ہے : ممنون حسین

Sep 09, 2013| Courtesy by : nawaiwaqt.com.pk

news-1378679724-5229کراچی (آن لائن) پاکستان کے نئے صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ میں مرکزی حکومت اور صوبوں کے درمیان اچھے تعلقات قائم کرنے کے لئے آئینی حیثیت اختیار کروں گا۔ میاں نواز شریف کی قیادت میں حکومت ملکی مسائل حل کرنے کے لئے سنجیدہ ہے،امن وامان پر توجہ دی جارہی ہے۔ مسئلہ کشمیر بھارت کے ساتھ خوشگوار تعلقات میں بڑی رکاوٹ ہے ۔ امریکہ ڈرون حملے بند کر دے اس سے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں ۔عوام خود کرپٹ عناصر کا سماجی بائیکاٹ کریں تو ہر سطح پر بہتری آ سکتی ہے ۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ملک کو بڑے مسائل کا سامنا ہے ،تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ امن وامان اور توانائی کی قلت دوبڑے مسائل ہیں اگر ہم ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں یہ مسائل حل کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ کرپٹ لوگوں کا بائیکاٹ کیا جائے اگر عوام اٹھ کھڑے ہوں تو مثبت تبدیلی آ سکتی ہے ۔ملک میں میرٹ کی حکمرانی ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ حکومت امن وامان کی بہتری کے لئے سنجیدہ ہے، وزیر اعظم کراچی کا دورہ کر چکے ہیںا ور درست سمت میں اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختصر عرصے میں حکومت نے 17ہزار میگاواٹ پیداوار کی ہے۔ ہمیں توانائی کے بحران کے مکمل حل کے لئے کچھ وقت انتظار کرنا ہوگا۔ بلوچستان کی صورت حال کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اختر مینگل کا اسمبلی میں آنا بہت اچھا ہے ،بلوچستان میں اتحادی حکومت بڑے مسائل کے حل پر توجہ دے رہی ہے اور توقع ہے کہ ان کی کوششوں سے صورت حال بہتر ہو گی ۔انہوں نے کہا کہ کراچی اقتصادی مرکز ہے حکومت کو اسے ترجیح دینی چاہیے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات جلد ہونے والے ہیں اس سے کراچی کی صورت حال بھی بہتر ہوگی ۔چین کے ساتھ تعلقات کے بارے میں منتخب صدر نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان اچھے دوستانہ تعلقات ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط ہو رہے ہیں ۔وفود کے تبادلے سے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے ۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ممنون حسین نے کہا کہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا احترام ہونا چاہیے ۔مسئلہ کشمیر باہمی تعلقات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے ۔موجودہ حکومت مذاکرات اور امن کی حامی ہے ۔مجھے یقین ہے کہ بھارتی حکومت بھی اسی جذبے کا مظاہرہ کرے گی ۔ تعلقات معمول پر آنے سے تجارتی اور اقتصادی ترقی کے مواقع سے بھر پور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں ان تعلقات کو برقرار رکھنے کے لئے امریکہ کو چاہئے کہ وہ پاکستان کے اندر ڈرون حملے بند کرے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن واستحکام کے لئے ہم ان کے ساتھ ہیں ۔افغانستان کے تمام بڑے گروپوں کو مذاکراتی عمل میں شریک ہونا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ او آئی سی کا دائرہ وسیع کرنا چاہیے۔ ملک کی ترقی کےلئے خواتین کی تعلیم ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے امن وامان بہتر بنانا ہوگا۔اس وقت بڑے قومی ادارے بھاری خسارے میں جارہے ہیں ،ہمیں سٹیل ملز اور دیگر اداروں کا جائزہ لینا ہوگا۔اگر ضرورت ہوتو ان اداروں کی نجکاری بھی کی جا سکتی ہے ۔