یوسف گھرکی مسلم لیگ ن میں شامل‘ سیلاب متاثرین کا تحفظ اور بحالی اولین ترجیح ہے : شہبازشریف

Aug 16, 2013| Courtesy by : nawaiwaqt.com.pk

news_detail_img-epaper_id-4692-epaper_page_id-58878-epaper_map_detail_id363972

لاہور (خصوصی رپورٹر) وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے گھرکی خاندان کے سربراہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما حاجی محمد یوسف گھرکی نے ملاقات کی اور ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گئے ہیں۔ ملاقات کے دوران حاجی محمد یوسف گھرکی نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ حاجی محمد یوسف گھرکی پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق وزیر فاروق یوسف گھرکی کے والد ہیں۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے یوسف گھرکی کو مسلم لیگ (ن) میں شمولیت پر دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت ملک کو درپیش مسائل حل کرنے کے لئے دن رات کوشاں ہے۔ ہم مل جل کر ملک کو بحرانوں سے نکالیں گے۔ عوام کی بے لوث خدمت ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے۔ گذشتہ پانچ برس کے دوران صوبہ پنجاب میں ترقی و خوشحالی کے سفر کی بنیاد رکھی گئی، صوبے میں میرٹ، شفافیت اور معیار کو فروغ دے کر نئی مثال قائم کی۔ یہی وجہ ہے کہ عام انتخابات میں عوام نے مسلم لیگ (ن) پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ تاریخ ساز مینڈیٹ کا تقاضا ہے کہ ہم سب مل کر ملک و قوم کی خدمت میں جت جائیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی خود نگرانی کر رہا ہوں اور تمام متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر امدادی سرگرمیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے حاجی محمد یوسف گھرکی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی قیادت میں پنجاب نے بے مثال ترقی کی ہے اور اس موقع پر ایم این اے پرویز ملک، خواجہ احمد حسان، سابق رکن اسمبلی رانا مبشر اقبال اور طلحہ برکی بھی موجود تھے۔ دریں اثناء شہباز شریف نے کہا ہے کہ متاثرین سیلاب کی جان و مال کا تحفظ‘ ریلیف اور بحالی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کوئی کوتاہی یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ مصیبت کی اس گھڑی میں سیلاب متاثرین کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ جان و مال کے تحفظ کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔ آئندہ دنوں میں کسی بھی ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ کم سے کم نقصان ہو۔ ممکنہ سیلاب کی صورت میں عوام کو بروقت آگاہ کیا جائے اور تمام تر انتظامات مکمل رکھے جائیں۔ ڈویژنل کمشنرز اور ضلعی انتظامیہ تمام دریائوں میں سیلابی پانی کی صورتحال کی ذاتی طور پر نگرانی کریں۔ متاثرین کیلئے کئے جانے والے امدادی کاموں کو مزید تیز کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز تریموں ہیڈ ورکس ضلع جھنگ میں دریائوں کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ کے دوران کیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے ڈویژنل کمشنرز اور ڈی سی اوز کو ہدایت کی کہ وہ دریائوں میں طغیانی پر کڑی نظر رکھیں اور دریائوں سے ملحقہ علاقوں کی ذاتی طور پر نگرانی کریں۔ سیلاب کے خطرہ کی صورت میں لوگوں کو بروقت آگاہ اور ان کے انخلا کا فوری بندوبست کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے متاثرین سیلاب کے لئے خشک راشن‘ پینے کا صاف پانی‘ ادویات‘ خیمہ جات اور دیگر ضروریات کا خاطر خواہ بندوبست کرنے کا بھی حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند دنوں میں دریائوں کے پانی میں متوقع اضافہ کی خطرناک صورتحال سے نمٹنے کے لئے پیشگی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے شورکوٹ اور گڑھ مہاراجہ کے درمیان دریائے چناب پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی طرف سے بغیر حفاظتی بند کے نئے پل کی تعمیر کے باعث دریا کے پانی میں زیادہ اضافہ ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس کا فوری نوٹس لیتے ہوئے کمشنر فیصل آباد اور ڈی سی او جھنگ کو ہدایت کی کہ مفاد عامہ کے لئے اس مسئلے کا فوری حل تلاش کیا جائے اور گڑھ مہاراجہ کو سیلابی پانی سے بچانے کیلئے تمام ضروری اقدامات فوری طور پر اٹھائے جائیں۔ کمشنر سرگودھا نے بتایا کہ دریائے چناب میں طغیانی کے باعث تحصیل کوٹ مومن کا کچھ علاقہ سیلاب سے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے ہیڈ تریموں پر پانی کی صورتحال کا جائزہ لیا اور متعلقہ محکموں کی طرف سے کئے گئے انتظامات کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔ دریں اثناء شہباز شریف سے گذشتہ روز یہاں متحدہ عرب امارات کے قائم مقام قونصل جنرل بخیت عتیق الرومیتھی نے ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔  شہباز شریف نے خراب موسم کے باوجود تریموں ہیڈ ورکس ضلع جھنگ کا دورہ کیا اور وہاں سے گزرنے والے پانی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ بریفنگ کے بعد ہیڈ تریموں پر گئے اور کچھ دیر پانی کی صورتحال کا جائزہ لیتے رہے۔ وزیراعلیٰ نے موقع پر موجود کمشنرز اور ڈی سی اوز کو ہدایت کی کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہنگامی انتظامات مکمل رکھیں۔ بعدازاں وزیراعلیٰ سیالکوٹ میں سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کیلئے روانہ ہوئے تاہم انتہائی خراب موسم کے باعث ان کا طیارہ سیالکوٹ لینڈ نہ کرسکا۔

nawaiwaqt.com.pk