90 ءکی سیاست پیچھے چھوڑ دی‘ پی پی پی کو بائیکاٹ کی غلطی کا جلد اندازہ ہو گا : نوازشریف

Jul 30, 2013| Courtesy by : nawaiwaqt.com.pk

news_detail_img-epaper_id-4631-epaper_page_id-57950-epaper_map_detail_id358178

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی + نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو صدارتی انتخاب کے میدان سے باہر نہیں ہونا چاہئے تھا اسے جلد اپنی غلطی کا اندازہ ہو جائے گا ممنون حسین کے صدر منتخب ہونے سے نہ صرف قومی یکجہتی کو فروغ ملے گا بلکہ سیاسی و جمہوری قوتوں کو بھی تقویت ملے گی کیونکہ ممنون حسین خود بھی فعال سیاسی کارکن رہے ہیں توقع ہے کہ وہ قوم کی توقعات پر پورا اتریں گے ممنون حسین صدر منتخب ہو کر آئین کے تحفظ کا قومی فریضہ انجام دیں گے پاکستان پیپلز پارٹی کو صدارتی انتخاب کے بائیکاٹ کے فیصلے پر پچھتاوا ہو گا۔ انہوں نے ےہ بات پارلیمنٹ ہاو¿س میں سینٹ اور قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی پارلیمانی پارٹی نے ممنون حسین کو حکومتی جماعت کا صدارتی امیداور نامزد کرنے کی باقاعدہ طور پر توثیق کی۔ وزےراعظم محمد نوازشرےف نے کہا جمہوریت کا صرف دعویٰ نہیں کیا جاتا اس کے تقاضوں کی بھی لاج رکھنی پڑتی ہے، صدارتی انتخاب پر کسی بھی سیاسی جماعت کو کشیدگی یا محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہئے، ہم سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں ہم سیاسی تناو¿ کے متمنی نہیں، ہمارا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں سب سیاسی قوتوںکو قومی معاملات پر جمہوری حکومت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔ حکمران اتحاد کے متفقہ صدارتی امیدوار بھی اجلا س میں شریک تھے۔ انہوں نے کہا کہ صدارتی انتخابات میں ارکان کی جانب سے حق رائے دہی استعمال کرنا ان کی نمائندگی اور آئین و جمہوری اقدار کا تقاضا ہے سب رائے شماری میں حصہ لیں جمہوریت کا صرف دعویٰ نہیں کیا جاتا اس کے تقاضوں کی بھی لاج رکھنی پڑتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے جمہوری تقاضوں کے منافی اقدام اٹھایا، پارٹی کے حوالے سے شاید یہ اس کا ازالہ بھی نہ کر سکیں۔ سویلین حکومت سے دوسری سویلین حکومت کو پرامن کامیاب انتقال اقتدار سے جمہوری اصولوں کی بالادستی کا اظہار ہوا اور تمام سیاسی جماعتوں کو اس عمل کو آگے لے کر جانا ہو گا۔ ہم نے 1980ءاور 90ءکی سیاست پیچھے چھوڑ دی ہے جو زیادہ تر ذاتی انتقام پر مبنی تھی۔ انہوں نے ارکان کو ہدایت کی کہ وہ صدارتی الیکشن کے روز بروقت ایوان میں آئیں۔ ممنون حسین نے ارکان پارلیمنٹ سے اپنے حق میں ووٹ ڈالنے کی درخواست بھی کی۔ صدر مملکت کے منصب کو وفاق کی علامت قرار دیتے ہوئے انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ بطور صدر ملک اور قوم کی خدمت کریں گے۔ وزیراعظم نے اطمینان کا اظہار کیا کہ جمہوریت ملک میں جڑیں پکڑ رہی ہے اور آئین اور قانون کی بالادستی کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ صدارتی انتخاب سے نئے صدر اس منصب کو سنبھالیں گے اس تبدیلی کو حزب آختلاف کی جماعتوں کو درست تناظر میں لینا چاہئے۔ جمہوریت کے دور کو استحکام مل رہا ہے، بیلٹ باکس کی حرمت فروغ پا رہی ہے۔ وزیراعظم نے پارلیمانی پارٹی کو اپنے حالیہ دورہ چین کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور چین کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کے حوالے سے بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں پر عملدرآمد سے ملک میں اقتصادی، تجارتی اور مختلف شعبوں میں تبدیلی آئے گی، یہ معاہدے خطے میں گیم چینجر کے طور پر سامنے آئیں گے۔ وزیراعظم نے سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری کی اہمیت کو اجاگر کیا جو اقتصادی ترقی کے لئے ناگزیر ہے۔ سلامتی کی صورتحال میں بہتری سے اقتصادی اہداف، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور مجموعی ترقی کے اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف نے توانائی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا گیا اور قومی توانائی پالیسی کے خدوخال کے بارے میں بھی تفصیلات بیان کیں۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ ذاتی انتقام کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے۔ ممنون حسین اچھی ساکھ اور کردار کے مالک ہیں، وہ منصب صدارت کے اہل ہیں۔ آئین اور قانون کی بالادستی سے جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوئی ہیں۔ 11 مئی کو کسی سیاسی جماعت نے انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کیا تھا۔ 11 مئی کو سکیورٹی کی خراب صورتحال کے باوجود انتخابات ہوئے۔ ممنون حسین صدر منتخب ہو کر ملکی وقار میں اضافے کا سبب بنیں گے۔ ممنون حسین پارٹی کے قابل فخر رکن ہیں۔ یقین ہے کہ وہ قوم کی امیدوں پر پورا اتریں گے۔ ممنون حسین کی نامزدگی اہم اور خوشگوار ثابت ہو گی۔ اجلاس میں جمشید دستی بھی موجود تھے۔ پیپلز پارٹی نے جمہوری تقاضوں کے منافی اقدام اٹھایا، شاید یہ اس کا ازالہ نہ کر سکیں۔ چینی سرمایہ کاروں کے وفد سے ملاقات میں وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا کہ پاکستان میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اس حوالے سے پاکستان میں خیرمقدم کیا جائے گا۔ پاکستان چین اقتصادی راہداری سے صرف دونوں ملکوں نہیں بلکہ ایشیا میں تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہو گا، یہ منصوبہ دنیا کی توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔ ملاقات میں مختلف شعبوں میں پاکستان چین منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا کہ حکومت نے سرمایہ کاری کی ساز گار فضا کے لئے اقدامات کئے ہیں سرمایہ کاری کے حوالے سے روایتی رکاوٹوں کو دور کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے چینی سرمایہ کاروں پر پاکستان میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سرماےہ کاری مےں ترغےبات کے لئے اہم اقدامات کئے گئے ہےں، توانائی کے شعبہ مےں سرماےہ کاری سے دونوں ملکوں کو فائدہ حاصل ہو گا۔ پاکستان چےن کے ساتھ طے پانے والے حالےہ منصوبوں پر پےشرفت کا متمنی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ دنیا کی توجہ حاصل کر رہا ہے، ہم فوری طور پر منصوبہ میں پیشرفت چاہتے ہیں۔ اس بارے میں دونوں ممالک کی ٹاسک فورس متحرک ہیں۔